ریاض میں قائم امریکی سفارت خانے نے تمام ویزا خدمات، اپائٹمنٹس اور دیگر خدمات عارضی طور پر معطل کردی ہیں۔
سفارت خانے نے ریاض، جدہ اور دمام کے لیے ‘شیلٹر اِن پلیس’ یعنی گھروں میں رہنے کی ہدایت جاری کی۔ بیان کے مطابق منگل 3 مارچ کو امریکی مشن بند رہے گا اور تمام معمول کی اور ہنگامی امریکن سٹیزن سروسز اپائنٹمنٹس منسوخ کر دی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان میں احتجاج کے پیش نظر امریکی سفارت خانے نے ویزا اور قونصلر خدمات معطل کر دیں
مشن نے واضح کیا کہ جدہ، ریاض اور ظہران کے لیے جاری گھروں میں رہنے کی ہدایت بدستور برقرار ہے اور مملکت میں موجود امریکی شہریوں کو بھی اسی پر عمل کی سفارش کی گئی ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ حملے کے باعث آئندہ اطلاع تک سفارت خانے سے گریز کیا جائے اور خطے میں فوجی تنصیبات کے غیر ضروری سفر کو محدود رکھا جائے۔
Security Alert: Consular Appointments Cancelled – U.S. Mission to the Kingdom of Saudi Arabia (Mar. 3, 2026)
The U.S. Mission to Saudi Arabia is closed on Tuesday, March 3. All routine and emergency American Citizen Services appointments are cancelled. The shelter in place…
— U.S. Embassy Riyadh (@USAinKSA) March 3, 2026
امریکی مشن کا کہنا ہے کہ وہ علاقائی صورتِ حال کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے۔ شہریوں کو تازہ ترین سیکیورٹی الرٹس کا جائزہ لینے، ممکنہ خلل کے پیش نظر سفری منصوبوں پر نظرِ ثانی کرنے اور ذاتی حفاظتی منصوبہ تیار رکھنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اسمارٹ ٹریولر انرولمنٹ پروگرام میں اندراج یا دوبارہ اندراج، درست پاسپورٹ کی دستیابی یقینی بنانے، اردگرد کے حالات سے باخبر رہنے اور بڑے اجتماعات و مظاہروں سے دور رہنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ایران پر حملہ: ٹرمپ انتظامیہ کے دعوؤں پر سوالات، کانگریس کو مختلف بریفنگ
واضح رہے کہ اس سے قبل عرب نیوز کے مطابق سعودی وزارتِ دفاع نے کہا تھا کہ ریاض میں امریکی سفارتخانے کو ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں عمارت میں معمولی آگ بھڑک اٹھی اور جزوی نقصان ہوا۔
حکام کے مطابق حملے کے وقت سفارت خانہ خالی تھا اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔














