سوشل میڈیا پر وفاقی وزیر کی اہل تشیع علما کے ساتھ ملاقات کے حوالے سے پھیلائی جانے والی مبینہ غلط معلومات پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ اس معاملے پر مختلف حلقوں نے کہا ہے کہ محدود ملاقات کے جملوں کو سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کرنا قومی یکجہتی کے لیے نقصان دہ ہے۔
ذرائع کے مطابق ملاقات کا بنیادی مقصد ملک میں اتحاد کو فروغ دینا، فرقہ وارانہ بیانیوں کا توڑ کرنا اور بیرونی واقعات کے نام پر پاکستان میں کسی بھی قسم کے تشدد کو روکنا تھا۔ اس نشست کو اختلاف یا تصادم کے لیے نہیں بلکہ باہمی ہم آہنگی اور یکجہتی کے لیے اہم قرار دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:چیف آف ڈیفنس فورسز سید عاصم منیر کی اہلِ تشیع مکتبِ فکر کے علمائے کرام سے ملاقات، اتحاد، برداشت اور ہم آہنگی پر زور
متعلقہ حلقوں نے کہا کہ اس ملاقات کے چند جملوں کو الگ کر کے ان پر جذباتی یا سیاسی رنگ چڑھانا نہ صرف غیر ذمہ دارانہ عمل ہے بلکہ اس سے علماء کے وقار کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ ان کے مطابق کسی ایک جملے کو بنیاد بنا کر پورے مقصد کو نظر انداز کرنا درست طرز عمل نہیں۔
قرآن اور سیرت سے رہنمائی
اس حوالے سے کہا گیا کہ قرآن مجید میں خبر کی تحقیق اور بدگمانی سے بچنے کی ہدایت دی گئی ہے، جبکہ سیرت اہل بیتؑ میں بھی صبر، برداشت اور امت کے اجتماعی مفاد کو مقدم رکھنے کا درس دیا گیا ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ حساس معاملات کو جذباتی انداز میں پیش کرنے کے بجائے ذمہ داری کے ساتھ دیکھنے کی ضرورت ہے۔
مزید کہا گیا کہ ایسے نازک حالات میں ریاستی قیادت اور علماء کے درمیان ہونے والی گفتگو کو تنازع بنانا قومی مفاد میں نہیں۔ یہ وقت اعتماد کو مضبوط کرنے اور باہمی اختلافات کو سنبھالنے کا ہے، نہ کہ انہیں بڑھانے کا۔

چیئرمین وحدتِ علما پاکستان مولانا زاہد عباس کاظمی نے کہا کہ ہم اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑے ہیں اور پاکستان کے دفاع کے لیے ان کے شانہ بشانہ لڑنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے، اور ہمیں قومی یکجہتی کو ہر حال میں مضبوط بنانا چاہیے۔
مختلف حلقوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملاقات کے اصل پیغام کو سمجھنا اور اسے صحیح تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔ سیاق و سباق سے ہٹ کر باتوں کو پھیلانا نہ صرف گمراہ کن ہے بلکہ اس سے معاشرے میں بے چینی اور تقسیم پیدا ہو سکتی ہے۔














