عید الاضحیٰ کے قریب آتے ہی اسرائیل کی جانب سے غزہ کے مسلمانوں پر حج کی ادائیگی اور قربانی کرنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔
اکتوبر 2023 میں شروع ہونے والے جنگی سلسلے کے بعد رواں سال بھی ناکہ بندی اور سخت سرحدی پابندیوں کے باعث غزہ کا کوئی بھی شہری حج کا فریضہ ادا کرنے مکہ مکرمہ نہیں جاسکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ بیت المقدس، فلسطینیوں نے پابندیوں کے باوجود مسجد اقصیٰ کے قریب سڑکوں پر نماز جمعہ ادا کی
غزہ کے سرکاری میڈیا آفس کے مطابق فروری سے اب تک صرف 5,304 افراد کو سرحد پار کرنے کی اجازت ملی ہے جو کہ توقعات سے بہت کم ہے۔

مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ جنگ سے پہلے ہر سال کم از کم 3,000 عازمین غزہ سے حج کے لیے جاتے تھے۔ اگرچہ حالیہ معاہدوں کے بعد رفح بارڈر کو جزوی طور پر کھولا گیا تھا، لیکن اسرائیلی اور مصری حکام کی جانب سے صرف چند سو بیمار افراد کو ہی گزرنے کی اجازت دی جارہی ہے۔
مکہ مکرمہ سے آنے والی حاجیوں کی ویڈیوز دیکھ کر غزہ کے محصور شہری شدید مایوسی اور دکھ کا اظہار کررہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل نے فلسطینیوں کو ریلیف ایجنسی سے بھی محروم کردیا، یو این آر ڈبلیو اے پر پابندی
دوسری جانب غزہ کی وزارتِ زراعت نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی پابندیوں اور فارمز کی تباہی کے باعث مسلسل تیسرے سال بھی غزہ میں قربانی کے جانور دستیاب نہیں ہیں۔ جنگ سے پہلے عید کے سیزن میں یہاں ہزاروں گائے اور بھیڑیں درآمد کی جاتی تھیں، لیکن اب مویشیوں کے شعبے کی منظم تباہی کے بعد پالتو جانور ناپید ہوچکے ہیں۔

حماس اور اقوامِ متحدہ کے حکام کے مطابق امدادی سامان کی ترسیل میں شدید کمی کے باعث غزہ میں خوراک کا بحران مزید سنگین ہوگیا ہے۔














