کوئٹہ میں فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (FIA) کے اینٹی کرپشن سرکل نے گزشتہ 2 سال کی کارکردگی رپورٹ جاری کرتے ہوئے بجلی چوری اور کرپشن کے خلاف بڑی کارروائیوں کی تفصیلات سامنے رکھ دیں۔
مزید پڑھیں: کوئٹہ: بجلی چوری اور مالی بے ضابطگیوں کے خلاف کارروائیاں، اعداد و شمار جاری
ترجمان کے مطابق بجلی چوری کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران 1,193 کیسز بے نقاب کیے گئے، جبکہ 17,560 مقامات کی چیکنگ کے دوران اہم انکشافات بھی سامنے آئے۔
ایف آئی اے نے بجلی چوروں کے خلاف 324 مقدمات درج کیے اور 853 انکوائریز شروع کیں، جس سے ملوث عناصر کے گرد گھیرا مزید تنگ کر دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 172 ملین روپے کی کرپشن بے نقاب کی گئی، جبکہ 825 ملین روپے کی ریکوری بھی عمل میں لائی گئی۔ اس کے علاوہ 620 ٹیمپرڈ میٹرز اور 15 غیر قانونی ٹرانسفارمرز ضبط کیے گئے۔
کنڈا سسٹم کے خلاف کارروائی کے دوران 1,300 میٹر تار بھی برآمد کی گئی، جبکہ تحقیقات میں کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی کے بعض افسران کے ملوث ہونے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔
مزید پڑھیں: کرپشن کیس میں گرفتار 3500 سرکاری ملازمین سے کتنی وصولی کی گئی؟
اووربلنگ کے کیسز میں 14 افسران کے خلاف 7 ایف آئی آرز درج کی گئیں، جبکہ بجلی چوری کے مزید کیسز میں 23 افسران کے خلاف 6 مقدمات قائم کیے گئے۔
ایف آئی اے نے واضح کیا ہے کہ کرپشن اور بجلی چوری کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی کے تحت بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی، اور ملوث عناصر کے خلاف شکنجہ مزید سخت کیا جائے گا۔













