بھارتی ریاست اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ نے ایک عوامی خطاب میں مسلمانوں سے متعلق متنازع ریمارکس دیے ہیں، جس پر سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
مزید پڑھیں: ایک صدی بعد ذات کی بنیاد پر مردم شماری، بھارت میں نئی بحث چھڑ گئی
میڈیا رپورٹس کے مطابق یوگی آدتیہ ناتھ نے آسام میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بھارتیہ جنتا پارٹی آسام کو مبینہ طور پر ’مسلم دراندازوں‘ سے خالی کرا سکتی ہے۔
ان کے مطابق ہر مسلمان کی شناخت کرکے اسے ریاست سے باہر نکالا جا سکتا ہے۔
انہوں نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہاکہ اتر پردیش میں سڑکوں پر نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جبکہ عبادت گاہوں میں بلند آواز سے عبادات یا اعلانات پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
ان بیانات کے بعد مختلف حلقوں کی جانب سے سخت تنقید کی جا رہی ہے۔
انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے ریمارکس مذہبی ہم آہنگی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور معاشرتی تقسیم میں اضافہ کر سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: اسرائیل کے ساتھ مودی کی کھلی صف بندی: بھارت خلیج اور ایران کے ساتھ توازن کھو رہا ہے؟
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارت میں مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے بحث پہلے ہی زور پکڑ چکی ہے۔














