وفاقی وزیر برائے تجارت جام کمال نے کہا ہے کہ خطے میں بڑی معاشی طاقتیں موجود ہونے کے باوجود اس وقت پاکستان پر اعتبار کیا جارہا ہے۔ پاکستان کے مختلف ممالک کے ساتھ بڑھتے ہوئے سفارتی روابط اس بات کا ثبوت ہیں کہ عالمی برادری پاکستان پر اعتماد کر رہی ہے اور ملک کو ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پاکستان کی معیشت اور صنعت پر خطے میں ہونے والی جغرافیائی و سیاسی تبدیلیوں کے اثرات مرتب ہوتے ہیں، تاہم حکومت معاشی استحکام اور تسلسل کے لیے مختلف سطحوں پر اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان سمیت دنیا کی بیشتر معیشتیں اس وقت چیلنجز سے دوچار ہیں، خصوصاً مشرق وسطیٰ، یورپ اور مشرقی ایشیا کی معیشتیں بھی دباؤ کا شکار ہیں۔
ان کے مطابق حکومت کی جانب سے گزشتہ ڈیڑھ سے دو ماہ میں معاشی نظم و نسق بہتر بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔
جام کمال نے کہاکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا براہِ راست اثر عام شہری پر پڑتا ہے، تاہم پاکستان چونکہ تیل خود پیدا نہیں کرتا اس لیے عالمی قیمتوں کا بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ حکومت کے پاس دو راستے ہوتے ہیں، یا تو سبسڈی کا بوجھ خود اٹھائے یا مالی توازن کو برقرار رکھے، اور اسی بنیاد پر فیصلے کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کی زیر صدارت مختلف شعبوں میں روزانہ کی بنیاد پر اجلاس ہو رہے ہیں جن میں بندرگاہوں، ہوا بازی، تجارت اور برآمدات سمیت تمام اہم شعبوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں میں سہولت دی جا سکے۔
وفاقی وزیر کے مطابق حکومت نے ٹرانس شپمنٹ پالیسی، ٹول ٹیکس میں کمی اور پیٹرولیم لیوی میں ممکنہ ریلیف سمیت مختلف اقدامات کیے ہیں تاکہ کاروباری طبقے کو سہولت مل سکے۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان کی معیشت کا ایک بڑا حصہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر پر منحصر ہے، جن میں سے 70 فیصد سے زیادہ آمدن خلیجی ممالک سے آتی ہے۔ ان کے مطابق سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور دیگر خلیجی ممالک پاکستان کے لیے معاشی لحاظ سے انتہائی اہم ہیں۔
جام کمال نے کہاکہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان تعلقات نہ صرف روزگار بلکہ سرمایہ کاری کے حوالے سے بھی مضبوط ہو رہے ہیں، اور حالیہ عرصے میں اعلیٰ سطح کے وفود کے تبادلوں سے تعاون میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے خطے میں تنازعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر ہونے والے بعض واقعات اور جنگیں ایسی ہوتی ہیں جن پر براہِ راست کسی ملک کا کنٹرول نہیں ہوتا، لیکن ان کے اثرات تمام معیشتوں پر پڑتے ہیں، جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔
وفاقی وزیر نے کہاکہ پاکستان کی سفارتی پالیسی گزشتہ دو برسوں میں نمایاں طور پر بہتر ہوئی ہے اور ملک نے عالمی سطح پر ایک متوازن اور غیر جانبدارانہ مؤقف کے ذریعے اپنا مقام مضبوط کیا ہے۔
جام کمال کے مطابق حکومت کی کوشش ہے کہ معاشی بہتری کے ثمرات عوام تک منتقل ہوں اور پاکستان کو ایک مستحکم اور مضبوط معیشت کی جانب لے جایا جائے۔













