وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے اعلان کے مطابق پاکستان تحریک انصاف آج لیاقت باغ میں جلسہ کرنے جا رہی تھی، جو ایران امریکا جنگ بندی کے لیے مذاکرات کے نتیجے میں ملتوی کر دیا گیا۔ اب لیاقت باغ کی جگہ خیبر پختونخوا میں ہی جلسہ ہوگا۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے پشاور میں میڈیا کو بتایا کہ پہلی بار پاکستان کو عالمی سطح پر جو پذیرائی مل رہی ہے، اسی تناظر میں عمران خان نے جلسہ ملتوی کرنے کی ہدایت کی۔ جبکہ عمران خان نے ہی 10 روز کے اندر خیبر پختونخوا میں جلسہ کرنے کی ہدایت دی ہے۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا لیاقت باغ میں جلسہ ملتوی کرنے کا اعلان
تاہم پاکستان تحریک انصاف کے ورکرز اس فیصلے کو ماننے کو تیار نہیں ہیں۔ پی ٹی آئی ورکرز کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ بننے کے بعد پہلی بار سہیل آفریدی نے صوبے سے باہر جلسے کا اعلان کیا، لیکن وہ کر نہیں سکے، جس سے انہیں شدید مایوسی ہوئی۔
’یہ لوگ عمران خان سے مخلص نہیں‘
اگرچہ لیاقت باغ جلسہ عمران خان کی ہدایت پر ہی ملتوی کیا گیا، تاہم ورکرز سہیل آفریدی کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان کے مطابق سہیل آفریدی کی جانب سے اس جلسے کے لیے پہلے سے کوئی تیاری نہیں تھی۔ رشید احمد کا تعلق پشاور سے ہے اور وہ پی ٹی آئی کے ورکر ہیں جو جلسوں میں ضرور شرکت کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جلسہ ملتوی ہونے پر انہیں اور ایسے تمام ورکرز کو مایوسی ہوئی ہے جو عمران خان کے لیے فکرمند ہیں اور کسی قسم کی مراعات نہیں لیتے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت مخلص پارٹی ورکرز شدید مایوس اور قیادت سے ناراض ہیں اور ان کا قیادت پر بھروسا کم ہو گیا ہے۔ اب یہ تاثر عام ہو گیا ہے کہ یہ لوگ عمران خان سے مخلص نہیں ہیں اور اپنے مفادات کے لیے کام کرتے ہیں۔
عزیز خان کی بھی کچھ ایسی ہی سوچ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لیاقت باغ جلسے کے اعلان سے وہ خوش تھے اور پرعزم تھے کہ پنڈی جا کر سیاسی طاقت کا مظاہرہ کریں گے، لیکن وہ نہیں ہو سکا۔
سہیل آفریدی صوبے سے باہر جلسہ کب کریں گے؟
جواد احمد پی ٹی آئی کے نوجوان ورکر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جلسہ ملتوی کرنا شاید مجبوری اور وقت کی ضرورت ہو، لیکن اس کے بعد اسی مقام پر ہی جلسہ ہونا چاہیے۔ وہ کہتے ہیں کہ علی امین گنڈاپور کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا تھا کہ وہ جلسے نہیں کر رہے، لیکن اگر دیکھا جائے تو ان کے دور میں سب سے زیادہ جلسے ہوئے اور کئی بار اسلام آباد مارچ بھی ہوئے۔ ہمارا سہیل آفریدی سے ایک ہی سوال ہے کہ آپ نے ابھی تک کیا کیا ہے، اور صوبے سے باہر جلسہ کب کریں گے؟
مزید پڑھیں: لیاقت باغ یا بھاٹہ چوک راولپنڈی، پی ٹی آئی نے جلسہ کے لیے درخواست دیدی
انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی کی جانب سے لیاقت باغ جلسے کے لیے تیاری بالکل بھی نہیں تھی، اور 8 اپریل کے دن بھی کسی کو نہیں پتا تھا کہ ٹرانسپورٹ کا کیا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی کو بہانہ مل گیا اور جلسہ ملتوی کر دیا، لیکن پی ٹی آئی ورکر شریف خان سمجھتے ہیں کہ سہیل آفریدی پر بہت زیادہ دباؤ ہے اور ان حالات میں بھی وہ عمران خان کی رہائی مہم شروع کرنے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پنڈی یا پنجاب کے کسی اور شہر میں جلسہ کرنا پی ٹی آئی کے لیے آسان نہیں ہے، اور سہیل آفریدی کو بھی اس کا اندازہ ہے۔
سہیل آفریدی پر صوبے سے باہر نہ نکلنے کا ٹھپہ ہے۔
پشاور کے سینئر صحافی و تجزیہ کار طارق وحید سمجھتے ہیں کہ سہیل آفریدی کے بارے میں تاثر ہے کہ وہ خیبر پختونخوا سے باہر جلسہ نہیں کر سکتے۔ سہیل آفریدی پر پارٹی میں ٹھپہ لگا ہوا ہے، اور وہ اس بار پنڈی جلسے کا اعلان کرکے اسے ختم کرنا چاہتے تھے۔
طارق وحید کے مطابق سہیل آفریدی کی بھی خواہش نہیں تھی کہ لیاقت باغ میں جلسہ ہو، اور ان کی تیاری سے لگ رہا تھا کہ این او سی نہ ملنے کا بہانہ کرکے احتجاج کریں گے اور جلسہ ختم کر دیں گے۔
پی ٹی آئی اب خیبر پختونخوا میں ہی جلسہ کرے گی
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے مطابق 9 اپریل کا جلسہ عمران خان کی ہدایت پر ایران امریکا مذاکرات کی وجہ سے ملتوی کیا گیا، جبکہ اب خیبر پختونخوا میں ہی جلسہ کریں گے۔
پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے بتایا کہ عمران خان کی ہدایت پر خیبر پختونخوا میں اگلے چند روز میں جلسہ کرنے جا رہے ہیں۔ تاہم ورکرز کے مطابق خیبر پختونخوا میں جلسہ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔
مزید پڑھیں: 9 اپریل کا جلسہ: پی ٹی آئی کا موٹروے کی بجائے جی ٹی روڈ سے جانے کا فیصلہ
پی ٹی آئی ورکر شریف خان کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ان کی حکومت ہے اور کوئی رکاوٹ نہیں ہے، جبکہ صوبے سے باہر جلسہ کرنے سے سیاسی مخالفین پر اثر پڑے گا۔ ہم چاہتے ہیں کہ سیاسی مخالفین پر دباؤ آئے، جس کی وجہ سے مذاکرات ہوں اور خان کی رہائی کی بات آگے بڑھے، لیکن قیادت شاید اس کے لیے تیار نہیں ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ اگر سہیل آفریدی بھی اسی طرح کرتے رہے تو علی امین کے ساتھ کیا ہوا، وہ ان کے سامنے ہے۔












