نیوزی لینڈ کا شمالی جزیرہ شدید نوعیت کے سمندری طوفان ‘ویانو’ کی زد میں آگیا ہے، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی اور ہزاروں شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا ہے۔
اتوار کے روز آنے والے اس طاقتور طوفان نے ساحلی علاقوں میں تباہی مچادی ہے، جبکہ حکام نے خبردار کیا ہے کہ دن گزرنے کے ساتھ ساتھ موسمی حالات مزید سنگین ہوسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نیوزی لینڈ میں سمندری طوفان کی دستک، شمالی جزیرے سے بڑے پیمانے پر انخلا کے احکامات
قومی محکمہ موسمیات ‘میٹ سروس’ کے مطابق طوفان کے زمین سے ٹکرانے سے قبل ہی 130 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زائد رفتار کی تباہ کن ہواؤں، موسلا دھار بارش اور سمندر میں بلند ہوتی لہروں نے نظام زندگی درہم برہم کر دیا ہے۔ بعض علاقوں میں ہوا کے طوفان کی رفتار 150 کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی ہے۔
طوفان کے باعث اب تک 5 ہزار سے زائد گھروں کی بجلی منقطع ہو چکی ہے، تاہم امدادی ٹیمیں 2 ہزار کے قریب صارفین کی بجلی بحال کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔
حالات کی سنگینی کے پیشِ نظر نیوزی لینڈ کی دفاعی افواج کو بھاری مشینری کے ساتھ امدادی کاموں کے لیے طلب کر لیا گیا ہے جو متاثرہ علاقوں سے لوگوں کے انخلاء میں انتظامیہ کی مدد کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سمندری طوفان ملٹن فلوریڈا سے ٹکرا گیا، 16 افراد ہلاک سیکڑوں زخمی
حکومت نے کئی علاقوں میں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے اور ‘ریڈ الرٹ’ جاری کیا ہے، جو صرف انتہائی شدید ترین موسمی حالات میں جاری کیا جاتا ہے۔ وزیر اعظم کرسٹوفر لکسن نے شہریوں کو پہلے ہی خبردار کر دیا تھا کہ وہ اس بڑے قدرتی خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار رہیں۔
وزیر برائے ایمرجنسی مینجمنٹ مارک مچل کا کہنا ہے کہ اگرچہ ملک کا سب سے بڑا شہر آکلینڈ طوفان کے براہ راست مرکز سے بچ گیا ہے، لیکن ساحلی علاقوں میں سمندری لہروں کے باعث سیلابی صورتحال کا سنگین خطرہ موجود ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق وانگاری شہر میں 24 گھنٹوں کے دوران 100 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی جا چکی ہے۔ یہ طوفان 2023 میں آنے والے تباہ کن ‘گیبریل’ طوفان کی یاد تازہ کر رہا ہے جس نے نیوزی لینڈ میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان پہنچایا تھا۔














