وزیراعظم کے خصوصی نمائندہ برائے بین المذاہب ہم آہنگی اور چیئرمین پاکستان علمائے کونسل مولانا طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان دنوں پاکستان کو جو مقام اور مرتبہ عطا کیا ہے وہ تمام پاکستانیوں اور مسلمانوں کے لیے باعثِ فخر ہے، امریکا ایران مذاکرات کے بعد اب ‘چھٹی بین الاقوامی اسلامی کانفرنس’ 20 اپریل کو اسلام آباد کے کنونشن سینٹر میں منعقد ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد مذاکرات: بات چیت کے دروازے بند نہیں کیے، امریکی نائب صدر،ایک نشست میں معاہدہ ممکن نہیں، رابطے جاری رہیں گے، تہران
امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ انسان کا کام محنت کرنا ہے اور ہم نے اپنا کام کر دیا ہے، نتائج اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ جس وقت دنیا ایک بڑی جنگ کے خطرے سے دوچار تھی، اس وقت اسلام آباد نے مذاکرات کے دروازے کھولے اور تاریخ ہمیشہ اس حقیقت کی گواہی دے گی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں ایران اور امریکا کے درمیان امن مذاکرات کے بعد میڈیا کے مواد پر بحث
مولانا طاہر اشرفی نے مزید کہا کہ آرمی چیف فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر، وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے اللہ پر توکل کرتے ہوئے ایک بڑے مشن کا بیڑا اٹھایا جس کے نتیجے میں پہلے جنگ بندی ہوئی اور پھر امن کی سرزمین اسلام آباد میں مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اللہ کا شکر گزار ہونا چاہیے اور بہتری کی دعا کرنی چاہیے کیونکہ مثبت نتائج کی امید ابھی باقی ہے۔
انہوں نے یہ اہم اعلان بھی کیا کہ اسلام آباد میں ہونے والی ان سفارتی سرگرمیوں اور مہمانوں کی آمد و رفت کے باعث اب ‘چھٹی بین الاقوامی اسلام کانفرنس’ 20 اپریل کو اسلام آباد کے کنونشن سینٹر میں منعقد ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد مذاکرات: پاکستان کا کردار قابل تعریف، اعتماد کی بحالی امریکا کی ذمہ داری، محمد باقر قالیباف
اس کانفرنس میں فلسطین کے مفتی اعظم، سعودی عرب، ترکیہ اور دیگر اسلامی ممالک کے جید علماء اور سکالرز شرکت کریں گے۔
مولانا طاہر اشرفی کے مطابق اس کانفرنس کے ذریعے پوری امتِ مسلمہ کو امن، محبت اور رواداری کا واضح پیغام دیا جائے گا اور اسلام کی روشنی میں امت کے مسائل کے حل کے لیے ایک جامع منصوبہ پیش کیا جائے گا۔














