2 سال ہونے کو ہیں لیکن خیبر پختونخوا حکومت کا سولر منصوبہ تاخیر کا شکار ہے۔ ’2024 سے انتظار ہے، پتا نہیں کب دیں گے۔‘
سال 2024 میں خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی دوبارہ حکومت آئی تو غریب اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے کے لیے صوبائی حکومت نے سولر سسٹم فراہم کرنے کا اعلان کیا۔ لیکن 2026 میں ابھی تک اس پر عمل درآمد نہ ہوسکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں سولرائزیشن منصوبہ مبینہ بدعنوانی کے باعث منسوخ
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت نے گھروں کو سولر سسٹم فراہم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے 2024 میں ہی فراہمی کا وعدہ کیا تھا۔ اس کے علاوہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے مفت اور رعایتی قیمت پر سولر سسٹم کی فراہمی کا اعلان کیا۔ جس کے بعد 2024 اور پھر 2025 کی گرمیاں گزر گئیں، لیکن سولر سسٹم کی فراہمی تاحال تاخیر کا شکار ہے۔
سولر سسٹم منصوبے میں کیا شامل ہے؟
خیبر پختونخوا میں کم آمدنی والے خاندانوں کو سولر سسٹم دینے کا اعلان اس وقت کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے کیا تھا۔ منصوبے کے تحت صوبے کے 1 لاکھ 30 ہزار گھرانوں کو سولر سسٹم فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا،جس میں 65 ہزار مستحق گھرانوں کو مفت سولر سسٹم دیا جانا تھا، جبکہ کم آمدنی والے مزید 65 ہزار خاندانوں کو 50 فیصد سبسڈی دی جائے گی۔
فی گھر تقریباً 2 کلوواٹ کا سولر سسٹم فراہم کیا جانا ہے۔ محکمہ خزانہ کے مطابق اس منصوبے پر مجموعی لاگت تقریباً 13 ارب روپے رکھی گئی ہے۔ صوبائی حکومت کے مطابق اس منصوبے کا مقصد بجلی کی کمی کا خاتمہ اور غریب طبقے کو بجلی کے بلوں میں ریلیف دینا ہے۔
حکام کے مطابق منصوبے پر کام علی امین کے دورِ حکومت میں ہی شروع ہوا تھا، تاہم اس وقت فنڈز کی کمی اور دیگر انتظامی مسائل کے باعث اسی سال یہ ممکن نہ ہو سکا۔ منصوبے سے وابستہ ایک افسر نے بتایا کہ 2024 کی گرمیاں ختم ہونے کے بعد سولر منصوبے پر توجہ کم ہو گئی، جبکہ 2025 میں اس پر کچھ کام ہوتا رہا۔
سولر منصوبے میں تاخیر کی وجوہات کیا ہیں؟
سولر منصوبے میں تاخیر پر حکومتی سطح پر بھی غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ پی ٹی آئی کے اراکین بیوروکریسی کو تاخیر کا سبب قرار دے رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کے ایک رکن اسمبلی نے سولر منصوبے کی تاخیر پر حکومت اور سرکاری افسران پر تنقید کی۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا: ایک لاکھ سے زائد گھروں اور سرکاری عمارتوں کو سولر پر منتقل کرنے کا منصوبہ شروع
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انہوں نے بتایا کہ غریب طبقہ دو گرمیاں اس سولر کے انتظار میں گزار چکا ہے، جبکہ اب بھی گرمیاں شروع ہو گئی ہیں لیکن ابھی تک سولر کی تقسیم یا تنصیب کا عمل شروع نہیں ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ جب بھی متعلقہ حکام سے اس بارے میں پوچھا جاتا ہے تو جواب ملتا ہے کہ تکنیکی مسائل تھے۔ ان کے مطابق منصوبہ بغیر مناسب پلاننگ اور بجٹ مختص کیے اعلان کیا گیا تھا، جس کی وجہ سے ابتدائی مرحلے میں منصوبے کے ڈیزائن، سسٹم کی صلاحیت اور طریقہ کار پر اختلافات سامنے آئے اور بار بار تبدیلیاں کی گئیں۔
سولر منصوبے سے وابستہ ایک افسر نے بتایا کہ منصوبہ ایک نہیں بلکہ کئی وجوہات کی بنا پر تاخیر کا شکار ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی طور پر ڈیزائن اور صلاحیت کے معاملات کے بعد بیوروکریسی کی جانب سے رکاوٹیں آئیں، اور حسبِ روایت پی سی ون کی منظوری بھی تاخیر کا شکار رہی۔ انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے سے کئی محکمے منسلک ہیں اور ان کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان پایا گیا، جس کی وجہ سے مسائل پیدا ہوئے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ بیوروکریسی کے مسائل کے بعد کرپشن کے الزامات سامنے آنا شروع ہوئے، جس کی وجہ سے ٹینڈر کا عمل متاثر ہوا اور ٹھیکیداروں کی پری کوالیفکیشن کا عمل منسوخ کرنا پڑا۔ ٹینڈر کے طریقہ کار پر اٹھنے والے سوالات کے بعد یہ اقدام کیا گیا۔ ان کے مطابق حکومت کی جانب سے بھی انتظامی سطح پر بار بار تبدیلیاں کی گئیں۔ جس کی وجہ سے منصوبہ مزید متاثر ہوا۔
’سال 2024 سے انتظار ہے، پتا نہیں کب دیں گے۔‘
خیبر پختونخوا میں گرمیوں کے دوران لوڈشیڈنگ ایک بڑا مسئلہ ہے، اور پشاور شہر کے نواحی علاقوں سمیت دیگر اضلاع میں 18 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، جبکہ بجلی کے بل بھی زیادہ آتے ہیں۔ صوبائی حکومت کی جانب سے سولر سسٹم کی فراہمی کا اعلان کو عوامی سطح پر اس وقت سراہا گیا تھا، تاہم اب طویل تاخیر کے باعث یہ منصوبہ تنقید کی زد میں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’سولر پینل کی درآمدات پر ٹیکس بڑھانے کا کوئی منصوبہ نہیں‘
نیاز رب، جو ایک نجی ادارے میں ملازم ہیں، کے مطابق سولر لسٹ میں ان کا نام شامل ہے، لیکن ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود ابھی تک انہیں سسٹم فراہم نہیں کیا گیا۔ ’ہم 2024 سے اس کا انتظار کر رہے ہیں اس امید کے ساتھ کہ گرمیوں میں بجلی ملے، لیکن پتا نہیں کب تک انتظار کرنا پڑے گا۔‘
انہوں نے بتایا کہ ان کی آمدنی کے مطابق سولر لگوانا ممکن نہیں، جبکہ ان کے علاقے میں 18 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ ہوتی ہے۔ ’رات کو بالکل بھی بجلی نہیں ہوتی، خود اندازہ کریں ہم کتنی مشکل میں ہیں۔‘
’تمام رکاوٹیں دور کر دی گئی ہیں، جلد شروع کریں گے‘
محکمہ توانائی کے ایک اعلیٰ افسر نے تسلیم کیا کہ رکاوٹوں اور منصوبہ شروع ہونے سے پہلے انکوائریوں کی وجہ سے تاخیر ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ جلد ہی پی سی ون کی منظوری ہو جائے گی۔ ’اگر دیکھا جائے تو مکمل تیاری کے بغیر منصوبہ شروع کیا گیا، اور پی سی ون کی منظوری سے پہلے ہی ٹینڈر جاری کر دیا گیا، جسے بعد میں روکنا پڑا۔‘
انہوں نے بتایا کہ اس وقت تمام رکاوٹیں دور کر دی گئی ہیں اور پی سی ون حتمی منظوری کے مراحل میں ہے۔ ’بہت جلد ہم ٹینڈر کے بعد باقاعدہ گھروں پر تنصیب کا عمل بھی شروع کریں گے۔‘
جب ان سے ڈیڈ لائن کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ کوشش ہے کہ رواں گرمیوں میں ہی فراہمی شروع کر دی جائے۔
خیبر پختونخوا کے وزیر خزانہ مزمل اسلم نے بھی تاخیر کو حکومتی کمی تسلیم کیا۔ پشاور میں سولر سسٹم منصوبے کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت نے فنڈز جاری کر دیے ہیں اور اب تک اس منصوبے کو مکمل ہو جانا چاہیے تھا۔













