بنگلہ دیش کے وزیرِ تعلیم ڈاکٹر اے این ایم احسان الحق میلون نے اساتذہ کی حاضری سے متعلق خدشات کے پیشِ نظر اسکولوں، کالجوں اور مدارس میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
جمعہ کے روز دیناج پور میں واقع حاجی محمد دانش سائنس اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی میں ایک اورینٹیشن پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ بعض اساتذہ کی کلاسوں میں باقاعدہ حاضری نہ ہونے کی شکایات سامنے آئی ہیں، جس کے باعث نگرانی کا نظام بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش میں پولیس نظام کی تبدیلی، نوجوان افسران کو کلیدی کردار سونپ دیا گیا
ڈاکٹر میلون نے مزید کہا کہ وہ جامعات کے وائس چانسلرز جو تعلیمی معیار کو بہتر بنانے اور اداروں کی درجہ بندی میں بہتری لانے میں کامیاب ہوں گے، اپنے عہدوں پر برقرار رہیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت جامعات کی کارکردگی کا ریکارڈ مرتب کر رہی ہے اور مختلف اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈھاکہ سے باہر کی جامعات میں بھی بہتری کے وسیع مواقع موجود ہیں اور قابل طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے لیے دارالحکومت منتقل ہونے کی ضرورت محسوس نہیں کرنی چاہیے۔
مزید پڑھیں: تعلیم، صحت اور اسکل ڈیولپمنٹ: بنگلہ دیش میں پاکستانی سماجی کارکن کا فلاحی مشن
مدرسہ نظامِ تعلیم کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر تعلیم نے کہا کہ قرآن کی تعلیم سے متعلق ان کے بیانات کو غلط انداز میں پیش کیا گیا، جس پر انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
ان کا کہنا تھا کہ نصاب میں موجود خامیوں کے باعث تقریباً 9 ہزار اسلامیات اساتذہ کی بھرتی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
وزیر تعلیم نے ملک کے تعلیمی نظام میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اعلیٰ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ناکافی فنڈز پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔














