امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ یا ان کی ٹیم ایران سے مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے آئندہ 2 روز میں اسلام آباد جاسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا ایران مذاکرات کے اگلے دور کے لیے فریقین کا اسلام آباد پہنچنے کا امکان، غیر ملکی میڈیا
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان آئندہ مذاکرات دوبارہ اسلام آباد میں ہونے کا زیادہ امکان ہے اور اس کی بڑی وجہ پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کردار ہے جو لائق تحسین ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ آئندہ 2 دنوں میں اس حوالے سے اہم پیشرفت ہو سکتی ہے اس لیے مذاکرات کے لیے اسلام آباد جانے کا امکان زیادہ ہے۔
ان کے مطابق پاکستان کے فوجی سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر بہت اچھا کام کر رہے ہیں جس کی وجہ سے امریکا کے لیے اسلام آباد ایک موزوں مقام بن رہا ہے۔
مزید پڑھیے: وزیراعظم کی صدرِ مملکت سے ملاقات، امریکا ایران مذاکرات پر تفصیلی بریفنگ
انہوں نے مزید کہا کہ جب کوئی ملک اس معاملے میں براہ راست شامل ہی نہیں تو مذاکرات کسی اور جگہ کیوں کیے جائیں اس لیے اسلام آباد میں بات چیت زیادہ مناسب ہو سکتی ہے۔
مختلف میڈیا رپورٹس، مذاکرات کے دوبارہ پاکستان میں آغاز کا عندیہ
امریکا اور ایران کے مذاکرات کار اس ہفتے دوبارہ اسلام آباد پہنچ سکتے ہیں تاکہ جنگ کے خاتمے سے متعلق بات چیت دوبارہ شروع کی جا سکے۔
امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیں جبکہ پاکستان ایک بار پھر اس عمل میں مرکزی سفارتی کردار ادا کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ یہ پیشرفت مختلف عالمی خبر رساں اداروں رائٹرز، بلومبرگ اور ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹس میں سامنے آئی ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اس کے ذرائع نے بتایا ہے کہ گزشتہ ہفتے کے اختتام پر ہونے والے مذاکرات کامیاب نہ ہوسکنے کے بعد اب اس کے پاکستان میں دوبارہ انعقاد کے امکانات موجود ہیں اور وفود اسلام آباد پہنچ سکتے ہیں۔
Iran is considering a short-term pause to shipments through the Strait of Hormuz to avoid testing a US blockade and scuppering a fresh round of peace talks, according to a person familiar with the Tehran’s deliberations. https://t.co/IerJJw5XLe
— Bloomberg (@business) April 14, 2026
رپورٹ میں کہا گیا کہ مذاکرات کا نتیجہ نہ نکلنے کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی تھی جس کے نتیجے میں امریکا نے ایران کی بندرگاہوں پر ناکہ بندی عائد کر دی۔
دیگر میڈیا رپورٹس کے مطابق مذاکرات کار اس ہفتے دوبارہ اسلام آباد میں ملاقات پر غور کر رہے ہیں تاکہ حالیہ کشیدگی اور جنگی صورتحال کو کم کرنے کے لیے بات چیت دوبارہ شروع کی جا سکے۔
بلومبرگ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان بات چیت کے دوسرے دور پر غور جاری ہے جبکہ ایران عارضی طور پر آبنائے ہرمز سے شپمنٹس روکنے کے آپشن پر بھی غور کر رہا ہے تاکہ کشیدگی کم ہو اور سفارتی راستہ ہموار ہو سکے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسلام آباد ایک ممکنہ میزبان مقام کے طور پر زیر غور ہے تاہم دیگر مقامات پر بھی بات ہو رہی ہے۔
اسی طرح ایسوسی ایٹڈ پریس نے امریکی حکام اور ایک ثالث ملک کے سفارت کار کے حوالے سے بتایا ہے کہ مذاکرات جمعرات تک دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں اور دونوں فریق اصولی طور پر بات چیت جاری رکھنے پر متفق ہیں۔
سوشل میڈیا پر بھی ٹرمپ کے اسلام آباد آنے کی خبریں
علاوہ ازیں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں نے سفارتی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور پاکستانی نژاد شخصیت ساجد نذیر تارڑ نے دعویٰ کیا ہے کہ واشنگٹن میں اس بات کی چہ مگوئیاں جاری ہیں کہ ایران سے مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود اسلام آباد کا دورہ کر سکتے ہیں۔
Chater is everywhere in Washington DC that president Trump is going to islamabad Pakistan himself to meet Irani delegation to finalize the Islamabad accord. #Pakistanhameshazindabad https://t.co/ARHuN9XfAa
— Sajid N. Tarar (@sajidtarar) April 14, 2026
ساجد نذیر تارڑ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا کہ اطلاعات گردش کر رہی ہیں کہ صدر ٹرمپ ایرانی وفد سے ملاقات کے لیے پاکستان آ سکتے ہیں جہاں اسلام آباد معاہدے کو حتمی شکل دی جا سکتی ہے۔
ان کے مطابق یہ ممکنہ ملاقات ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی عمل میں اہم پیشرفت ثابت ہو سکتی ہے۔














