پشاور اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں نہم و دہم کے جاری سالانہ امتحانات کے دوران نقل کی روک تھام پر طلبا مشتعل ہو گئے اور امتحانی مراکز پر حملے کر دیے۔
مزید پڑھیں: سائنس فکشن یا حقیقت، کیا کینسر کے علاج کا انقلابی دور شروع ہوگیا؟
محکمہ تعلیم کے مطابق کوہاٹ بورڈ کے زیر اہتمام درہ آدم خیل میں قائم 2 امتحانی مراکز، گورنمنٹ ہائی سکول درہ آدم خیل اور گورنمنٹ ہائی سکول شیلکی وال میں طلبا نے توڑ پھوڑ کی اور امتحانی عملے کو تشدد کا نشانہ بنایا۔
خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں نہم و دہم کے جاری سالانہ امتحانات کے دوران نقل کی روک تھام پر طلبہ مشتعل ہو گئے اور امتحانی مراکز پر حملے کر دیے۔ @KpkEduNews @AliGunjai @KulAalam pic.twitter.com/85RUBYzwSJ
— Media Talk (@mediatalk922) April 16, 2026
رپورٹس کے مطابق مشتعل طلبا نے نہ صرف امتحانی عملے بلکہ انسپکشن کے لیے آنے والی ٹیم کی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا۔ محکمہ تعلیم کا کہنا ہے کہ امتحان کے دوران سختی کیے جانے پر طلبا طیش میں آ گئے۔
دوسری جانب مظاہرین طلبا کا مؤقف ہے کہ انسپکشن ٹیم اور عملہ انہیں بلاجواز تنگ کر رہا تھا، جس پر صورتحال کشیدہ ہوئی۔
مزید پڑھیں: پاک فوج کا انقلابی اقدام: بلتستان میں نوجوانوں کے لیے کمپیوٹر لیب اور فری لانسنگ ہب قائم
پولیس کے مطابق واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ مشتعل طلبا نے پہلے سڑک بند کی اور بعد ازاں امتحانی مراکز پر حملہ کیا، ریکارڈ کو نقصان پہنچایا اور سرکاری و نجی املاک کو بھی تباہ کیا۔ واقعے میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔














