پاکستان فوجی کارروائی، سفارتکاری، سیاسی لائحہ عمل اور اقتصادی اقدامات ایک جامع حکمت عملی کے ساتھ بروئے کار لا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آپریشن غضب للحق کے اثرات، خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات میں نمایاں کمی
ان چاروں محاذوں پر پاکستان کی شاندار حکمت عملی کا اعتراف امریکی جریدے واشنگٹن ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک تجزیے میں کیا گیا۔ یہ تجزیہ دفاعی امور کے ماہر اور ریٹائرڈ امریکی بریگیڈیئر جنرل مارک کِمِٹ نے کیا جنہوں نے پاکستان کی کامیاب حکمت عملی کے مختلف پہلو اجاگر کیے اور یہ بھی بتایا کہ کس طرح پاکستان دیگر قوتوں کی حکمت عملی کے مقابلے میں بہت بہتر انداز میں آگے بڑھ رہا ہے۔
تجزیے میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کے خلاف آپریشن غضب للحق کے دوران پاکستان تکنیکی مہارت و کامیابی کو بروئے کار لاتے ہوئے یہ بات یقینی بنا رہا ہے کہ شہری آبادی کا کم سے کم نقصان ہو۔
مزید پڑھیے: افغانستان میں آپریشن غضب للحق، سیز فائر تک پاک فوج کی کامیابیاں کیا ہیں؟
مذکورہ تجزیے میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ پاکستان آپریشن کے دوران افغانستان میں فتنہ الخوارج اور ان کے سہولت کاروں کو درستگی سے نشانہ بنا رہا ہے۔
بریگیڈیئر جنرل مارک کِمِٹ نے اپنے تجزیے میں کہا کہ آپریشن غضب للحق (انصاف کے لیے غضب) کے تحت اسلام آباد افغانستان میں درست نشانہ بنانے والی کارروائیاں کر رہا ہے جن کا ہدف تحریک طالبان پاکستان کے ٹھکانے اور ان کے سہولت کار ہیں۔
ان کارروائیوں میں واضح عسکری کامیابیاں حاصل کی جا رہی ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں کو کم سے کم رکھنے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔
عسکری حکمت عملی اور جدید جنگ کا سبق
تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ یہ آپریشن سرحد پار خطرات کے خلاف پاکستان کی بڑھتی ہوئی عسکری صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔ پاکستان اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ صرف فوجی کارروائیاں کافی نہیں ہوں گی جیسا کہ امریکی آپریشنز میں زیادہ تر طاقت کے بے دریغ استعمال پر انحصار کیا جاتا ہے۔
غضب للحق جدید جنگ کے ایک بڑے سبق کی عکاسی کرتا ہے کہ صرف عسکری طاقت دشمن کو جھکانے یا رعایتیں لینے کے لیے کافی نہیں ہوتی۔ جنگی اہداف کے حصول کے لیے سیاسی، معاشی اور سفارتی اقدامات بھی ضروری ہوتے ہیں۔
علاقائی استحکام کی کوششیں
اگرچہ امریکا نے یہ دکھایا ہے کہ درست نشانہ بنانے والی کارروائیاں میدانِ جنگ میں برتری دلوا سکتی ہیں، پاکستان اس کامیابی کو طویل مدتی علاقائی استحکام میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
پاکستان نے اس مہم کو محدود، ہدفی اور شفاف انداز میں پیش کیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ کارروائیاں صرف افغانستان کی سرزمین سے سرگرم شدت پسند نیٹ ورکس کے خلاف ہیں اور افغانستان میں رجیم چینج کا کوئی ارادہ نہیں۔
کارروائیوں کے نتائج
180 سے زائد شدت پسند مراکز کو تباہ کرنے اور 30 سے زیادہ ٹھکانوں کو غیر فعال بنانے کے بعد، اس مہم نے کم سے کم شہری نقصان کے ساتھ دشمن نیٹ ورکس کو کمزور کیا ہے۔
اس کے برعکس، ایران میں شہری ہلاکتوں کی رپورٹس نے امریکی دعوؤں کو نقصان پہنچایا ہے کہ ان کی کارروائیاں صرف عسکری اہداف تک محدود ہیں۔
سرحدی نظم و نسق اور انسداد دہشتگردی
پاکستان سمجھتا ہے کہ حقیقی استحکام صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں ہوتا۔ باغی معیشتیں کمزور حکمرانی، غیر محفوظ سرحدوں اور غیر قانونی تجارت پر انحصار کرتی ہیں۔ پاکستان کی جانب سے سرحدی نظم و نسق کو مضبوط بنانے اور علاقائی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کی کوششیں ان عوامل کو ختم کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔
عوامی اعتماد اور خودمختاری کا احترام
پاکستان اس بات پر بھی زور دیتا ہے کہ فوجی کارروائیوں کو شہری آبادی سے دور رکھا جائے تاکہ اعتماد اور قانونی حیثیت برقرار رہے۔ اس کی حکمت عملی میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ افغانستان کا سیاسی مستقبل افغان عوام کا حق ہے جس سے خودمختاری کے احترام کا اظہار ہوتا ہے۔
قومی استحکام کے لیے اقدامات
مارک کِمِٹ مزید لکھتے ہیں کہ ان کامیابیوں کو برقرار رکھنے کے لیے وسیع تعاون ضروری ہے۔ سول ادارے، مقامی کمیونٹیز اور علاقائی تنظیمیں سب اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ قومی ایکشن پلان کو آگے بڑھا کر، انسداد دہشت گردی کی سول صلاحیت میں اضافہ کر کے اور داخلی سلامتی کے نظام کو غیر سیاسی بنا کر پاکستان اپنی عسکری کامیابی کو قومی استحکام میں بدل سکتا ہے۔
فوج اور سفارت کاری کا توازن
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں فوج کی پیشہ ورانہ کارکردگی نے سفارت کاری اور حکمرانی کے لیے جگہ پیدا کی ہے بجائے اس کے کہ فوج خود سب کچھ سنبھال لے۔ امریکا کی افغانستان اور عراق میں کارروائیوں پر اکثر یہ تنقید کی جاتی ہے کہ وہاں فوج نے دیگر اداروں کو پس منظر میں دھکیل دیا۔
اسٹریٹجک مواقع اور علاقائی کردار
آپریشن غضب للحق نہ صرف عسکری مہارت کا مظہر ہے بلکہ ایک اسٹریٹجک موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ اگر اسے سیاسی رابطوں اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ساتھ جوڑا جائے تو ڈیورنڈ لائن کے علاقے میں استحکام ممکن ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: آپریشن ’غضب للحق‘: افغان طالبان کو کس قدر نقصان اٹھانا پڑا، تفصیلات منظر عام پر آگئیں
پاکستان اپنی ثقافتی، سفارتی اور جغرافیائی حیثیت کے باعث مکالمے اور بہتر حکمرانی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے اور سرحدی علاقوں میں طویل عرصے سے جاری تنازعات کے خاتمے میں مدد دے سکتا ہے۔
عالمی تناظر اور متبادل حکمت عملی
اگرچہ امریکا میں کچھ لوگ ان اقدامات کو ماضی کے ناکام انسداد بغاوت ماڈلز سے جوڑ کر مسترد کر سکتے ہیں لیکن غضب للحق کی بنیاد ڈیورنڈ لائن کے اطراف بسنے والے لوگوں کے تاریخی اور ثقافتی روابط پر ہے۔
جبکہ امریکا اور اسرائیل اپنے مقاصد کے لیے زیادہ تر عسکری طاقت پر انحصار کرتے ہیں اور ایران مزاحمتی حکمت عملی اپناتا ہے جبکہ پاکستان کا متوازن طریقہ ہے جس میں فوجی، سفارتی اور سماجی اقدامات شامل ہیں ایک متبادل راستہ پیش کرتا ہے۔
پاکستان کو خطے میں قائدانہ کردار ملنے کی بھرپور توقع
پاکستان کا ماڈل عسکری لحاظ سے فیصلہ کن ہے مگر یہ بھی تسلیم کرتا ہے کہ جنگیں مذاکرات کی میز پر ختم ہوتی ہیں۔ اب اصل چیلنج اس رفتار کو برقرار رکھنا اور عسکری کامیابی کو سیاسی وژن کے ساتھ جوڑنا ہے۔
مزید پڑھیں: آپریشن ’غضب للحق‘: شمالی وزیرستان میں پاک فوج کی فضائی کارروائی، متعدد ٹھکانے تباہ
آخر میں بریگیڈیئر جنرل مارک کِمِٹ لکھتے ہیں کہ اگر یہ حکمت عملی کامیاب رہی تو آپریشن غضب للحق نہ صرف ایک کامیاب مہم ثابت ہو سکتا ہے بلکہ پاکستان کو علاقائی استحکام میں قائدانہ کردار دینے کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔














