امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کا کہنا ہے ایران کے ساتھ جنگ اختتام کے بہت قریب ہے اور تہران ممکنہ طور پر معاہدے کے لیے تیار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ معمولی نہیں وسیع تر معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، جے ڈی وینس
فاکس بزنس کے پروگرام ’مارننگز ود ماریہ‘ کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں ایران کے ساتھ جاری جنگ کے خاتمے کا عندیہ دیا ہے۔
ماریہ بارٹی رومو کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی کارروائیاں ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئیں تاہم ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’جنگ ختم ہو چکی ہے‘۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی کارروائیوں کے نتیجے میں ایران کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکا فوری طور پر اپنی فوجی کارروائیاں روک بھی دے تب بھی ایران کو بحالی میں تقریباً 20 سال لگ سکتے ہیں۔
جنگ کا عالمی معیشت پر اثر اور صدر ٹرمپ کے تاثرات
اس انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال، تیل کی قیمتوں اور عالمی سیاست پر بھی گفتگو کی۔
مزید پڑھیے: وزیراعظم کے 3ممالک کے دورے، ڈونلڈ ٹرمپ کی فیلڈ مارشل اور شہباز شریف کی بھرپور تعریف
ڈٖونلڈ ٹرمپ نے اپنے انٹرویو میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو عالمی توانائی منڈیوں سے جوڑتے ہوئے کہا کہ خطے میں کشیدگی کا براہِ راست اثر تیل کی قیمتوں اور عالمی معیشت پر پڑتا ہے۔
🚨 @MariaBartiromo sat down with @POTUS, who provided an update on the Iran conflict: "I view it as very close to over." pic.twitter.com/E4oXBmm431
— Mornings with Maria (@MorningsMaria) April 15, 2026
ان کے مطابق جب خطے میں جنگ یا تنازع بڑھتا ہے تو توانائی کی سپلائی اور مارکیٹ میں عدم استحکام پیدا ہوتا ہے۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہوتی ہے یا جنگ کے خاتمے کی طرف پیشرفت ہوتی ہے تو اس سے عالمی تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہو سکتا ہے اور توانائی کی سپلائی چین میں بہتری آ سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: مستقل بنیادوں پر آبنائے ہرمز کھولنے پر چین مجھ سے خوش ہے، ٹرمپ کا دعویٰ
ان کا کہنا تھا کہ استحکام عالمی معیشت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان کی قیادت کی ایک بار پھر تعریف
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ پاکستانی قیادت خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مثبت کردار ادا کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: اسلام آباد مذاکرات کے بعد بھی پاکستان کے ذریعے امریکا سے رابطے جاری ہیں، ایران
ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اس حوالے سے سنجیدہ کوششوں میں مصروف ہیں۔












