امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی انتھروپک ان کی انتظامیہ کی نظر میں مثبت سمت میں پیشرفت کر رہی ہے اور وہ پینٹاگون کے ساتھ کمپنی کے دوبارہ تعاون کے لیے ایک معاہدے پر آمادہ ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مائیکروسافٹ کا مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بڑا قدم، انتھروپک ٹیکنالوجی کو کوپائلٹ میں شامل کرنے کا اعلان
منگل کو سی این بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کی حکومت کے مطابق انتھروپک تیزی سے درست سمت میں جا رہی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ کمپنی امریکی دفاعی اداروں کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہے۔
واضح رہے کہ فروری میں ٹرمپ نے حکومت کو انتھروپک کے ساتھ تعاون روکنے کی ہدایت دی تھی جس کے بعد پینٹاگون نے کمپنی کو سپلائی چین کے لیے خطرہ قرار دیا تھا جس سے اس کے فوجی اداروں کے ساتھ روابط متاثر ہوئے۔
مزید پڑھیے: امریکی اداروں کو جدید اے آئی ماڈل تک رسائی دینے پر غور، سائبر سیکیورٹی خدشات بڑھ گئے
کمپنی نے اس مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے امریکی محکمہ دفاع کے خلاف مارچ میں قانونی چارہ جوئی بھی کی۔
رپورٹس کے مطابق انتھروپک کے سی ای او ڈاریو امودی نے گزشتہ ہفتے وائٹ ہاؤس حکام سے ملاقات کی جسے امریکی انتظامیہ نے مثبت اور تعمیری قرار دیا۔
مزید پڑھیں: اینتھروپک کے جدید اے آئی ماڈل کے ممکنہ سائبر خطرات، برطانیہ کے ریگولیٹرز الرٹ ہوگئے
ٹرمپ کہتے ہیں کہ وہ کچھ دن پہلے وائٹ ہاؤس آئے تھے، ہماری ان سے بہت اچھی گفتگو ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ وہ بہت ذہین لوگ ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ وہ مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔ مجھے ذہین لوگ پسند ہیں۔














