مصنوعی ذہانت ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جہاں ’ڈیجیٹل ایجنٹس‘ تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں۔ ایسے سسٹمز جو صرف سوالوں کے جواب دینے تک محدود نہیں بلکہ خودمختار طریقے سے فیصلے کرنے اور کام انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل کلاؤڈ اور دوا ساز کمپنی ’مرک‘ کے درمیان مصنوعی ذہانت سے ادویات کی تیاری میں تیزی لانے کا معاہدہ
روایتی چیٹ بوٹس جیسے چیٹ جی پی ٹی یا کلاڈ کے برعکس ڈیجیٹل ایجنٹس زیادہ خودمختار ہوتے ہیں۔ یہ ملاقاتیں طے کر سکتے ہیں، ای میلز منظم کر سکتے ہیں، ڈیٹا کا تجزیہ کر سکتے ہیں اور پیچیدہ کام بھی بغیر مسلسل انسانی مداخلت کے مکمل کر سکتے ہیں۔
بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں جیسے گوگل، مائیکروسوفٹ اور اوپن اے آئی اس شعبے میں بھاری سرمایہ کاری کر رہی ہیں اور اسے کمپیوٹنگ کی دنیا میں اگلی بڑی تبدیلی قرار دے رہی ہیں۔
ٹیکنالوجی ایگزیکٹیو سندر پچائی کے مطابق اے آئی ایجنٹس کے دور میں انفراسٹرکچر کو بھی ترقی دینا ہوگی تاکہ وہ پیچیدہ اور خودکار کاموں کو سنبھال سکے۔
ماہرین کے مطابق ڈیجیٹل ایجنٹس بڑی لینگویج ماڈلز (ایل ایل ایمس) کے ساتھ ایسے ٹولز پر مشتمل ہوتے ہیں جو انہیں سافٹ ویئر، ویب سائٹس اور ڈیٹا بیسز کے ساتھ براہِ راست تعامل کی اجازت دیتے ہیں۔
مزید پڑھیے: کیا مصنوعی ذہانت کبھی حقیقی شعور حاصل کر سکتی ہے، جواب جاننے کے لیے گوگل کا اہم اقدام
گارٹنر کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ چند برسوں میں ایجنٹ بیسڈ اے آئی کاروباری نظاموں کا بنیادی حصہ بن سکتی ہے اور مختلف صنعتوں میں پیداواری صلاحیت کو بدل کر رکھ دے گی۔
سیکیورٹی خدشات اور چیلنجز
تاہم اس ٹیکنالوجی کے ساتھ سنجیدہ خطرات بھی جڑے ہوئے ہیں۔ سائبر سیکیورٹی ماہرین اور ادارے جیسے پالو آٹو نیٹ ورکس خبردار کرتے ہیں کہ ڈیجیٹل ایجنٹس کو ہیکرز استعمال کر سکتے ہیں یا ’پرومپٹ انجیکشن‘ حملوں کے ذریعے گمراہ کیا جا سکتا ہے جس میں خفیہ ہدایات دے کر نقصان دہ اقدامات کروائے جا سکتے ہیں۔
کچھ تجرباتی سسٹمز میں غیر متوقع رویے بھی سامنے آئے ہیں جیسے حساس معلومات شیئر کرنا یا غیر ارادی احکامات پر عمل کرنا۔ اس کے باعث سخت حفاظتی اقدامات اور واضح قوانین کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔
اس کے باوجود کاروباری ادارے تیزی سے ڈیجیٹل ایجنٹس اپنا رہے ہیں تاکہ روزمرہ کاموں کو خودکار بنایا جا سکے اور اخراجات کم کیے جا سکیں۔
کسٹمر سروس، مالیات اور صحت جیسے شعبوں میں یہ ٹیکنالوجی کارکردگی اور جدت بڑھانے کا اہم ذریعہ بن رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق سب سے بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ صلاحیت اور کنٹرول کے درمیان توازن قائم رکھا جائے۔
مزید پڑھیے: ’اے آئی سیکھو 2026‘ پروگرام کا آغاز، پاکستانی نوجوانوں کے لیے مفت مصنوعی ذہانت کی تربیت
ڈیجیٹل ایجنٹس انسان اور مشین کے تعلق کو نئی شکل دے سکتے ہیں لیکن ان کا محفوظ اور قابلِ اعتماد ہونا انتہائی ضروری ہے۔














