لاہور کے علاقے اچھرہ میں 3 کمسن بہن بھائیوں کے بہیمانہ قتل کے افسوسناک واقعے میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں ایک جانب سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر آ گئی ہے تو دوسری جانب مقدمہ درج ہونے کے بعد ملزمہ ماں کے ابتدائی اعتراف اور ایف آئی آر کی تفصیلات نے واقعے کو مزید ہولناک بنا دیا ہے۔
مزید پڑھیں: خاتون نے پالتو کتے کے قاتل کو سزا دلانے کے لیے اہم ترین ملازمت قربان کردی
پولیس کے مطابق سامنے آنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں ملزمہ کو گلی سے باہر جاتے اور پھر واپس آکر محلے داروں کے ساتھ مل کر 15 پر کال کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ فوٹیج کو مزید جانچ کے لیے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی بھجوا دیا گیا ہے۔
پولیس نے واقعے کا مقدمہ اپنی مدعیت میں درج کر لیا ہے، جس میں انکشاف کیا گیا کہ جب پولیس موقع پر پہنچی تو خاتون کے ہاتھ میں چھری موجود تھی، جسے اس نے پولیس کو دیکھ کر پھینک دیا۔ جائے وقوعہ سے ایک اور چھری بھی برآمد ہوئی۔
ایف آئی آر کے مطابق ملزمہ نے خود کو بچوں کی والدہ ردا فاطمہ ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی تھی اور اسی وجہ سے اس نے بچوں کو قتل کیا۔ خاتون کا کہنا تھا کہ اس کا شوہر بچوں کی وجہ سے اسے چھوڑنے پر آمادہ نہیں تھا۔
مزید پڑھیں: ممبئی پولیس افسر کے قتل کا ڈراپ سین، بیٹی ہی قاتل نکلی
پولیس کا کہنا ہے کہ 5 سالہ مومنہ بتول، 4 سالہ مومن رضا اور ڈیڑھ سالہ امہ حبیبہ کی گلا کٹی لاشیں گھر سے برآمد ہوئیں، جنہیں تیز دھار آلے سے قتل کیا گیا۔ تینوں لاشوں کا پوسٹ مارٹم مکمل ہونے کے بعد ورثاء کے حوالے کر دیا گیا، جنہیں آبائی گاؤں جھنگ منتقل کر دیا گیا۔
پولیس کے مطابق ملزمہ کو آج مقامی عدالت میں پیش کر کے ریمانڈ حاصل کیا جائے گا، جبکہ واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے۔
جاں بحق بہن بھائیوں کی لاشیں ورثا کے حوالے
اچھرہ کے علاقے میں گزشتہ روز پیش آنے والے افسوسناک واقعے میں ماں کے ہاتھوں جاں بحق ہونے والے تینوں بہن بھائیوں کی لاشیں ضروری کارروائی مکمل ہونے کے بعد ورثا کے حوالے کر دی گئیں۔ پولیس نے لاشیں بچوں کے خالو کے سپرد کیں،
جبکہ پوسٹ مارٹم کے بعد میتوں کو ایدھی سرد خانے میں محفوظ رکھا گیا تھا۔ ایدھی فاؤنڈیشن کے چیئرمین فیصل کی ہدایت پر میتوں کی منتقلی کے لیے فری ایمبولینس سروس فراہم کی گئی، جس کے ذریعے لاشوں کو ان کے آبائی گاؤں جھنگ روانہ کر دیا گیا۔














