مائیکل جیکسن کی زندگی پر بنی فلم ریلیز، شاندار موسیقی مگر ادھوری کہانی

جمعہ 24 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ہالی ووڈ میں طویل انتظار کے بعد بننے والی مائیکل جیکسن کی زندگی پر بننے والی فلم ‘مائیکل’ ریلیز ہو گئی ہے، جسے ایک طرف شاندار پرفارمنس اور دلکش موسیقی کی واپسی کے طور پر سراہا جا رہا ہے تو دوسری طرف اسے مکمل سوانح عمری نہ دکھانے پر تنقید کا سامنا بھی ہے۔

فلم کے ایک یادگار منظر میں جعفر جیکسن جب اسٹیج پر اپنے چچا، پاپ میوزک کے بادشاہ مائیکل جیکسن کے مخصوص ‘مون واک’ انداز میں سلائیڈ کرتے ہیں تو ناظرین دم سادھے رہ جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مائیکل جیکسن کی زندگی کے چند حیرت انگیز حقائق کیا ہیں؟

سفید موزے، چمکتا ہوا دستانہ اور اسٹیج پر جادوئی حرکات اس حد تک حقیقی محسوس ہوتی ہیں کہ چند لمحوں کے لیے حقیقت اور اداکاری کا فرق مٹ جاتا ہے۔

یہ فلم عالمی سطح پر 24 اپریل کو ریلیز ہوئی، جسے امریکا میں لائنزگیٹ اور بین الاقوامی سطح پر یونیورسل پکچرز نے پیش کیا۔

تقریباً 200 ملین ڈالر کے بجٹ، دوبارہ شوٹنگز اور قانونی پیچیدگیوں سے گزرنے کے بعد یہ پروجیکٹ کسی معجزے سے کم نہیں سمجھا جا رہا، تاہم اسے مکمل شاہکار قرار نہیں دیا جا رہا۔

جعفر جیکسن کی غیر معمولی اداکاری

فلم میں مائیکل جیکسن کا کردار ان کے بھتیجے جعفر جیکسن نے ادا کیا ہے، جو پہلی بار کسی فلم میں نظر آئے ہیں۔

نقادوں کے مطابق وہ نہ صرف اپنے چچا کی جسمانی حرکات بلکہ ان کی نفسیاتی نزاکت اور اسٹیج پر موجودگی کو بھی حیران کن حد تک درست انداز میں پیش کرتے ہیں۔

ڈانس سیکوئنسز کو ریچ اور ٹون ٹالائیوگا نے کوریوگراف کیا ہے، جنہیں فلم کا سب سے مضبوط پہلو قرار دیا جا رہا ہے۔

بچپن سے عالمی شہرت تک کا سفر

فلم کی ابتدا 1966 میں انڈیانا کے شہر گیری سے ہوتی ہے، جہاں سخت گیر والد جو جیکسن کے زیرِ نگرانی جیکسن برادران کی تربیت دکھائی گئی ہے۔

اس کردار کو کولمین ڈومنگو نے نبھایا ہے، جن کی اداکاری کو طاقتور اور خوفناک دونوں انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

بعد ازاں کہانی جیکسن فائیو کے عروج، موٹاؤن دور، اور پھر مائیکل جیکسن کے سولو کیریئر کی طرف بڑھتی ہے، جہاں ان کی ملاقات مشہور پروڈیوسر کوئنسی جونز سے ہوتی ہے اور ‘تھرلر’، ‘آف دا وال’ اور “’بیڈ’ جیسے تاریخی البمز کی تخلیق دکھائی جاتی ہے۔

فلم میں ‘بلی جینز’ اور ‘تھرلر’ جیسے گانوں کی تشکیل کے مناظر خاص طور پر متاثر کن قرار دیے جا رہے ہیں۔

بڑی خامی: متنازع دور کی غیر موجودگی

فلم کا سب سے بڑا تنازع یہ ہے کہ اسے 1988 کے لندن کنسرٹ پر ختم کر دیا گیا ہے، جبکہ مائیکل جیکسن کی زندگی کے بعد کے متنازع الزامات اور مقدمات کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے۔ اسی وجہ سے متعدد ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ فلم ‘نامکمل سوانح عمری’ محسوس ہوتی ہے۔

فلمی معیار اور تنقید

ہدایتکار اینٹوائن فوکوا اور اسکرین رائٹر جون لوگان کی یہ فلم تکنیکی طور پر شاندار مناظر اور موسیقی سے بھرپور ہے، لیکن رفتار تیز ہونے کے باعث کئی اہم لمحات سطحی محسوس ہوتے ہیں۔

ناقدین کے مطابق ‘مائیکل’ 2 مختلف فلموں کا مجموعہ ہے: ایک شاندار، جذباتی اور موسیقی سے بھرپور تجربہ، اور دوسری محتاط اور محدود کہانی جو مکمل سچائی کو بیان نہیں کرتی۔

اس کے باوجود، جعفر جیکسن کی پرفارمنس کو اس فلم کی سب سے بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، جو پہلی ہی فلم میں اپنے چچا کے افسانوی کردار کو دوبارہ زندہ کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp