امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل بہت اچھے اور قابل احترام ہیں، اور میں پاکستان کا بہت احترام کرتا ہوں۔
امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اپنے دور میں انہوں نے 8 مختلف جنگی تنازعات کو رکوانے میں کردار ادا کیا، جن میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بھی شامل ہے۔
مزید پڑھیں: امریکا ایران جنگ بند کروا کر پاکستان نے عالمی معیشت کو کتنا فائدہ پہنچایا؟
صدر ٹرمپ کے مطابق پاک بھارت کشیدگی اس حد تک بڑھ رہی تھی کہ صورتحال جوہری تصادم کی طرف جا سکتی تھی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس دوران 11 جہاز تباہ ہوئے، وزیراعظم پاکستان نے میرے حوالے سے کہاکہ میں نے کردار ادا کرکے لاکھوں جانیں بچائی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہاکہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی جلد ختم ہو جائے گی اور اس صورتحال میں امریکا کو فتح حاصل ہوگی۔
ان کے مطابق اگر ایران بات چیت کرنا چاہتا ہے تو وہ براہِ راست فون کے ذریعے رابطہ کر سکتا ہے، کیونکہ یہ معاملہ فون پر بھی طے کیا جا سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہاکہ ایران میں جن فریقین سے امریکا کا سامنا ہے ان میں کچھ قابلِ قبول ہیں جبکہ کچھ نہیں، تاہم انہیں امید ہے کہ ایران اس معاملے میں دانشمندی کا مظاہرہ کرے گا۔
انہوں نے مزید کہاکہ ایران کے افزودہ یورینیم سے متعلق معاملہ بھی جاری مذاکرات کا حصہ ہے اور امریکا اس تک رسائی حاصل کرے گا۔
چین کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ زیادہ مایوس نہیں ہیں لیکن بیجنگ اس معاملے میں مزید تعاون کر سکتا ہے۔
نیٹو کے کردار پر تبصرہ کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہاکہ ایران سے متعلق صورتحال میں نیٹو امریکا کے ساتھ نہیں تھا، اور جب جنگ کے خاتمے کے بعد برطانیہ نے بحری جہاز بھیجنے کی پیشکش کی تو یہ ایک غیر مناسب اقدام تھا۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور منعقد نہیں ہو سکا، اور گزشتہ روز صدر ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کا دورہ پاکستان منسوخ کردیا ہے۔
مزید پڑھیں: امریکا ایران جنگ سے مختلف ممالک میں پیٹرول کی قیمتوں پر کیا اثر پڑا؟
دوسری جانب پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے کے لیے بھرپور سفارتکاری جاری رکھے ہوئے ہے، جس کا صدر ٹرمپ کی جانب سے بھی اعتراف کیا گیا ہے۔














