دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) جہاں کاروباری ترقی اور کارکردگی میں انقلاب لا رہی ہے وہیں اب یہ ٹیکنالوجی ایک نئے معاشی چیلنج کی صورت اختیار کر رہی ہے۔ بڑی ٹیک کمپنیوں میں صورتحال یہ ہو چکی ہے کہ اے آئی کے استعمال پر آنے والے اخراجات بعض اوقات ملازمین کی مجموعی تنخواہوں سے بھی بڑھ گئے ہیں جس نے کارپوریٹ دنیا میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
اوبر کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر نے 2026 کا اپنا پورا اے آئی بجٹ سال کے آغاز سے قبل ہی ختم کر دیا تاہم یہ اخراجات ہارڈویئر یا انسانی وسائل پر نہیں بلکہ ’ٹوکن کاسٹس‘ یعنی اے آئی ماڈلز کے استعمال کی لاگت پر ہوئے۔ یہ صورتحال اس بات کی علامت ہے کہ اے آئی اب محض ایک ٹول نہیں بلکہ ایک بھاری سرمایہ کاری کا تقاضا کرنے والا نظام بن چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سپر ایپ کے تصور کی جانب بڑا قدم: اوپن اے آئی کا جی پی ٹی 5.5 ماڈل متعارف
اسی طرح Nvidia کے اپلائیڈ ڈیپ لرننگ کے نائب صدر Bryan Catanzaro نے Axios کو بتایا کہ ان کی ٹیم کے لیے کمپیوٹنگ کی لاگت اب انسانی افرادی قوت کی مجموعی لاگت سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ایک غیر معمولی تبدیلی ہے کیونکہ حال ہی تک ٹیکنالوجی کو انسانی محنت کا متبادل نسبتاً سستا حل سمجھا جاتا تھا۔
دوسری جانب کچھ ادارے اس رجحان کو ایک کامیابی کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ Swan AI کے چیف ایگزیکٹو Amos Bar-Joseph نے کہا کہ ان کی کمپنی ایک ایسا خودکار کاروباری ماڈل تشکیل دے رہی ہے جو انسانی عملے کے بجائے مصنوعی ذہانت کی بنیاد پر ترقی کرے گا۔ تاہم ماہرین کے مطابق اس ماڈل کی معاشی پائیداری ابھی سوالیہ نشان ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا اے آئی جمہوری نظام کے لیے بھی خطرہ ثابت ہوسکتی ہے؟
بین الاقوامی ریسرچ ادارے Gartner کے مطابق عالمی آئی ٹی اخراجات 2026 میں 6.31 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے،جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 13.5 فیصد اضافہ ہے۔ اس اضافے کی بنیادی وجوہات میں اے آئی انفراسٹرکچر، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور بڑے پیمانے پر ماڈلز کی تعیناتی شامل ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اب اصل بحث صرف اے آئی کے استعمال کی نہیں رہی بلکہ اس کی لاگت اور اس سے حاصل ہونے والی حقیقی کاروباری قدر کے درمیان توازن کی ہے جو آنے والے برسوں میں کارپوریٹ دنیا کو براہِ راست متاثر کرے گا۔














