عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل 7ویں روز اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد برینٹ کروڈ قریب 110 امریکی ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ بھی 96.96 امریکی ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا ہے، جبکہ مارکیٹ میں مسلسل تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ایران امریکا کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں بے چینی برقرار، خام تیل کی قیمت 107 ڈالر سے تجاوز کر گئی
رپورٹس کے مطابق خلیج میں جاری کشیدگی اور امریکا و ایران کے درمیان امن مذاکرات میں تعطل کے باعث توانائی کی سپلائی کے خدشات برقرار ہیں۔ آبنائے ہرمز کے راستے میں رکاوٹوں نے بھی عالمی منڈی میں سپلائی کے دباؤ کو مزید بڑھا دیا ہے۔
برینٹ کروڈ فیوچرز میں 0.4 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 108.68 امریکی ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سیشن کے بعد مسلسل 7ویں روز اضافے کا تسلسل ہے۔
ادھر ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ میں بھی 0.6 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جبکہ گزشتہ سیشن میں یہ 2.1 فیصد بڑھا تھا۔
عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ اس وقت ہوا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی حالیہ امن تجویز پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ ایران کی جانب سے پیش کی گئی تجویز میں جوہری پروگرام پر بات چیت کو جنگ بندی اور خلیجی بحری راستوں کے تنازع کے حل تک مؤخر کرنے کی بات شامل تھی۔
یہ بھی پڑھیے: تیل کی قیمتوں میں اضافہ، مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر خدشات
ماہرین کے مطابق جب تک امریکا اور ایران کے درمیان واضح پیش رفت نہیں ہوتی، مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ اور قیمتوں میں تیزی برقرار رہے گی۔ ادھر انڈین کموڈٹی ایکسچینج پر بھی خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر 9,201 روپے فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کی تصدیق ہو جاتی ہے تو قیمتوں میں تیزی سے کمی آ سکتی ہے، تاہم اس وقت مارکیٹ کا رجحان مجموعی طور پر تیزی کی طرف ہے۔














