گولان میں بستیوں کی توسیع بند کی جائے، اقوام متحدہ کا اسرائیل کو دوٹوک پیغام

بدھ 29 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اقوامِ متحدہ نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ شامی گولان کی پہاڑیوں میں غیرقانونی بستیوں کی توسیع کے منصوبے فوری طور پر روک دے۔ دوسری جانب شام نے اسرائیل سے 1974 کی سرحدوں تک واپسی کے لیے نئے سکیورٹی معاہدے کی خواہش ظاہر کی ہے، جس سے خطے میں سفارتی سرگرمیاں تیز ہونے کے امکانات ہیں۔

اقوامِ متحدہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ شامی گولان کی پہاڑیوں میں اپنی بستیوں کی توسیع کے منصوبوں کو فوری طور پر روک دے۔ عالمی ادارے کے ترجمان اسٹیفان دوجارک نے منگل کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ گولان میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع کے منصوبے بند ہونے چاہییں۔

یہ بھی پڑھیے امریکا نے اسرائیل کے لیے شام میں القاعدہ اور داعش کے ساتھ کام کیا، امریکی ادارے کے سابق سربراہ کا انکشاف

اسرائیلی میڈیا کے مطابق 16 اپریل کو اسرائیل نے پانچ سالہ منصوبے کی منظوری دی، جس کے تحت 33 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی لاگت سے مقبوضہ گولان میں غیرقانونی بستیوں کو فروغ دیا جائے گا۔ 2026 سے 2030 تک جاری رہنے والے اس منصوبے کے تحت تقریباً ایک ارب شیکل مختص کیے گئے ہیں، جن کا مقصد بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا اور اس علاقے میں اسرائیلی آبادی میں اضافہ کرنا ہے۔

اسرائیلی حکام کے مطابق اس اقدام کے ذریعے ’کاتزرین‘ نامی بستی کو گولان کا پہلا شہر بنانے کا ہدف رکھا گیا ہے، جیسا کہ کابینہ کے وزیر زیف ایلکن نے بتایا۔

بین الاقوامی قانون کے تحت گولان کی پہاڑیاں شام کا علاقہ تسلیم کی جاتی ہیں، جن پر اسرائیل نے 1967 سے قبضہ کر رکھا ہے، اور وہاں بستیوں کی تعمیر و توسیع کو غیرقانونی قرار دیا جاتا ہے۔

دوسری جانب شامی صدر احمد الشراع نے 17 اپریل کو کہا کہ دمشق ایک نئے سیکیورٹی معاہدے کا خواہاں ہے، جس کے تحت اسرائیل 1974 کی جنگ بندی لائنوں تک واپس جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام مرحلہ وار مذاکرات کا حصہ ہو سکتا ہے، جو مستقبل میں وسیع تر معاہدے کی راہ ہموار کرے گا۔

یہ بھی پڑھیے اسرائیل کی خطے میں عدم استحکام کی سازشیں ناکام، شامی صدر کا مؤقف

ترکیہ میں منعقدہ انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے دوران گفتگو کرتے ہوئے شامی صدر نے کہا کہ 1974 کا معاہدہ پانچ دہائیوں تک برقرار رہا، تاہم دسمبر 2024 میں سابق شامی حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیلی خلاف ورزیوں کے باعث یہ معاہدہ کمزور پڑ گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات کے ابتدائی مرحلے میں ایسے سیکیورٹی معاہدے کی کوشش کی جا رہی ہے جو اسرائیل کی 1974 کی سرحدوں تک واپسی کو یقینی بنائے اور دونوں فریقین کے تحفظ کے لیے نئے اصول وضع کرے۔

شامی صدر کے مطابق اگر یہ کوششیں کامیاب ہوئیں تو اس کے نتیجے میں طویل المدتی مذاکرات کا آغاز ممکن ہو سکتا ہے، جس کا مقصد مقبوضہ گولان کی حتمی حیثیت کا تعین کرنا ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مودی مخالف ویڈیوز پر میٹا انڈیا کے سربراہ کے خلاف مقدمہ درج

فیفا بحران تیز: ورلڈ کپ میں نجی سرمایہ کاری کے منصوبے پر اعلیٰ مشیر مستعفی

بلوچستان: سورینج کوئلہ کان 34 خاندانوں کے چراغ گل کرچکی، 2 مزدوروں کی تلاش جاری

پی سی بی کا نیا ورک لوڈ سسٹم فاسٹ بولرز کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا، نسیم شاہ

یوکرین جنگ کے بعد خلا میں عسکری سرگرمیوں پر عالمی خدشات بڑھ گئے

ویڈیو

پاکستان میں اچھی حکمرانی کے لیے انتظامی ری سیٹ کی ضرورت ہے تو ہو جانی چاہیے، ڈی جی آئی ایس پی آر

دہشتگردی سے متاثرہ افراد کے معاوضوں میں بڑا اضافہ، بلوچستان حکومت نے نئی مالی امدادی پالیسی نافذ کر دی

حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے پر تاریخی معاہدہ، غزہ سے اسرائیلی انخلا اور نئی فلسطینی حکومت کی راہ ہموار، صدر ڈونلڈ ٹرمپ

کالم / تجزیہ

پاکستان کویت شراکت داری کا نیا دور

نئے صوبوں کی حمایت کیوں؟

’جیسا پہلے کبھی نہ دیکھا گیا‘