امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ اب بھی بات چیت جاری ہے، بحری ناکہ بندی کا فیصلہ درست ثابت ہوا، ایران کو بس کہنا ہوگا کہ ہار مانتے ہیں۔
امریکی خلا بازوں سے ملاقات کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ میرا روسی صدر پیوٹن سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا، وہ بھی نہیں چاہتے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرے۔
مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ اور برطانوی وزیراعظم کے درمیان رابطہ، آبنائے ہرمز کی فوری بحالی پر تبادلہ خیال
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ میں نے روسی صدر سے کہا ہے کہ ہماری جنگ ختم کرنے سے پہلے تمہیں اپنی جنگ ختم کرنی ہوگی۔
انہوں نے کہاکہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہییں، یہ بات ایران سمیت دیگر ممالک بھی جانتے ہیں۔
امریکی صدر نے کہاکہ ہم نے ایران کی فضائی اور بحری صلاحیت ختم کردی، جبکہ ان کی میزائل بنانے کی صلاحیت بہت کم رہ گئی۔
انہوں نے کہاکہ ایرانی معیشت مردہ ہو چکی ہے، اور ایرانی کرنسی کی اب کوئی قدر و قیمت نہیں۔
قبل ازیں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہاکہ ایران کے ساتھ معاہدہ ہونے تک بحری ناکہ بندی جاری رہےگی، کیوں کہ یہ بمباری سے زیادہ مؤثر ہے اور اس وقت ایران دم گھٹنے کی حالت میں ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ ایران تیل برآمد کرنے کے قابل نہ رہا تو اس کا توانائی کا نظام جلد تباہ ہو سکتا ہے۔
امریکی صدر نے کہاکہ ایران بحری ناکہ بندی کھلوانے کے لیے معاہدہ کرنا چاہتا ہے، لیکن میں ایسا نہیں چاہتا، کیوں کہ ایران کے پاس جوہری طاقت نہیں ہونی چاہیے۔
اس سے قبل گزشتہ روز صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی جانب سے انہیں آگاہ کیا گیا ہے کہ وہ اس وقت بحران کی حالت میں ہے۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کوئی معاہدہ تاحال نہیں ہو سکا، تاہم پاکستان کی درخواست پر ہونے والی جنگ بندی تاحال برقرار رہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جاری 2 ماہ پر محیط جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کی گئی نئی ایرانی تجویز سے مطمئن نہیں ہیں، جس کے باعث تنازع کے حل کی امیدوں کو دھچکا پہنچا ہے۔
ایک امریکی عہدیدار کے مطابق اس جنگ نے نہ صرف توانائی کی عالمی رسد متاثر کی بلکہ مہنگائی میں اضافہ اور ہزاروں جانوں کے ضیاع کا سبب بھی بنی ہے۔
ایرانی تجویز میں کہا گیا ہے کہ جنگ کے خاتمے اور خلیجی بحری راستوں سے متعلق تنازعات کے حل تک ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت مؤخر رکھی جائے۔
مزید پڑھیں: ایران کے پاس وقت کم بچا ہے، معاہدہ ہماری شرائط پر ہوگا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
تاہم امریکی مؤقف ہے کہ جوہری معاملہ مذاکرات کے آغاز ہی سے زیر بحث آنا چاہیے، اور اسی نکتے پر صدر ٹرمپ نے عدم اطمینان کا اظہار کیا۔













