ججز ٹرانسفر کا فیصلہ آئین کے مطابق، نظام میں بہتری آئے گی، ماہرین قانون

جمعرات 30 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کی حالیہ ٹرانسفر کے فیصلے کو ماہرین قانون اور سینئر تجزیہ کاروں نے آئین و قانون کے مطابق قرار دیا اور ملک بھر میں یکساں انصاف کی فراہمی کے لیے اچھا اقدام قرار دیا ہے، ماہرین کے مطابق یہ کوئی نیا عمل نہیں ہے، ہر محکمے کے اعلی افسران کی پوسٹنگ اور ٹرانسفر ہوتی ہے اور اس کے لیے کسی وضاحت کی ضرورت نہیں ہوتی۔

مزید پڑھیں:ججز ٹرانسفر معاملہ: جسٹس بابر ستار کی کمیشن اجلاس سے قبل ذاتی سماعت کی درخواست

وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ ججز کے تبادلے کا فیصلہ آئینی دائرہ کار کے اندر کیا گیا ہے اور اسے بلاجواز متنازع بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی ساخت میں ججز کی واضح اکثریت موجود ہے، اس لیے یہ تاثر درست نہیں کہ حکومت اس عمل پر حاوی ہے، ماضی میں یہ اختیار صدر کے پاس تھا، تاہم اب اسے جوڈیشل کمیشن کے سپرد کر دیا گیا ہے، جو ججز کی تعیناتی کے ساتھ ساتھ ان کے تبادلے کا بھی مجاز ہے۔

انہوں نے کہا کہ دیگر صوبوں میں ہائی کورٹس کے مختلف بینچز موجود ہیں جہاں ججز کی روٹیشن اور تبادلے معمول کا حصہ ہیں، جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں صرف ایک ہی مرکزی نشست ہونے کے باعث جمود پیدا ہو جاتا ہے، حالیہ ٹرانسفر اسی توازن کو قائم کرنے کی کوشش ہے۔

سابق اٹارنی جنرل اور ماہر قانون اشتر اوصاف نے کہا کہ اس معاملے کو آئین کی روح کے بجائے اس کے متن کے مطابق دیکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق اگر آئین ججز کے تبادلے کی اجازت دیتا ہے اور اسی کے تحت فیصلہ کیا گیا ہے تو اس میں کوئی قانونی قباحت نہیں،  کسی بھی ادارے میں پوسٹنگ اور ٹرانسفر ایک انتظامی اختیار ہوتا ہے، جس کے لیے لازمی نہیں کہ متعلقہ فرد کو سنا جائے یا وجوہات فراہم کی جائیں، کیونکہ یہ نہ سزا ہے اور نہ ہی تنزلی۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ صوبوں میں چیف جسٹس صاحبان بھی ججز کو مختلف بینچز میں تعینات کرتے ہیں اور یہ ایک معمول کا عمل ہے۔ ان کے مطابق ججز کے تبادلے کو غیرمعمولی قرار دینا درست نہیں، کیونکہ ماضی میں بھی مختلف ہائی کورٹس کے درمیان تبادلے ہوتے رہے ہیں۔

پاکستان بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے سابق سربراہ اور ماہر قانون حسن رضا پاشا نے کہا کہ ججز ٹرانسفر سے متعلق قانون میں کی گئی ترمیم صرف اسلام آباد ہائی کورٹ تک محدود نہیں بلکہ ملک بھر کی ہائی کورٹس پر لاگو ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آئین کے آرٹیکل 200 میں پہلے ہی ججز کے باہمی تبادلے کی گنجائش موجود تھی، تاہم نئی ترمیم کے بعد طریقہ کار میں تبدیلی کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلے اس عمل میں متعلقہ جج کی رضامندی بھی شامل ہوتی تھی، لیکن اب یہ اختیار جوڈیشل کمیشن کو دے دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی ساخت دیگر ہائیکورٹس سے مختلف ہے کیونکہ یہاں کوئی بینچ موجود نہیں، جس کے باعث ججز کی مستقل تعیناتی ایک ہی جگہ پر رہتی ہے، جو انتظامی مسائل پیدا کر سکتی ہے۔

سینئر تجزیہ کار حامد حسن نے بھی ججز ٹرانسفر کو آئینی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کی 27ویں ترمیم اور آرٹیکل 200 کے تحت یہ اختیار موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی اقدام آئین و قانون کے مطابق ہو تو اس پر بلاجواز تنقید مناسب نہیں، البتہ رائے اور تجاویز دینا ہر شہری کا حق ہے۔

مزید پڑھیں:اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز ٹرانسفر کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا، آئینی ترامیم اور شفافیت پر سوالات، بار ایسوسی ایشن کی درخواست دائر

انہوں نے جوڈیشری کے ماضی کے کردار پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کا ٹریک ریکارڈ مکمل طور پر بے داغ نہیں رہا،  ایک وزیراعظم کو پھانسی دے دی گئی، متعدد وزرائےاعظم کو عہدے سے ہٹا کر گھر اور جیل بھیج دیا گیا اور بعد میں  ان فیصلوں کو سینیئر عدالتوں نے یکسر مسترد کر دیا، اس لیے موجودہ فیصلوں پر بھی متوازن انداز میں بحث ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق دیگر اداروں کی طرح ججز کے تبادلے بھی ایک معمول کی انتظامی کارروائی ہے اور اسے غیرمعمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

3ماہ کی گرمیوں کی تعطیلات کے خلاف درخواست، لاہور ہائیکورٹ نے فریقین سے جواب طلب کر لیا

چین نے مشرقِ وسطیٰ جنگ پر خطرے کی گھنٹی بجا دی

ایران امریکا مذاکرات میں بڑی پیش رفت: واشنگٹن اور تہران جنگ نہیں چاہتے، جے ڈی وینس

’ہر کام کے لیے شوہر سے اجازت لینی پڑتی ہے‘، ندا یاسر کا انکشاف

ایران امریکا معاہدے کی امید پھر روشن، آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہاز گزرنے لگے، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں گر گئیں

ویڈیو

مجھے ستارہ امتیاز کسی مخصوص شوٹ پر نہیں مجموعی کام کے اعتراف میں ملا، عرفان احسن کا ’حاسدین‘ کو جواب

خیبر پختونخوا: پی ٹی آئی کے 13 سالہ اقتدار کے بارے میں لوگوں کی رائے کیا ہے؟

انمول پنکی نے کن شخصیات کے خلاف بیانات دیے؟ وکیل نے ملاقات کی تفصیلات بتا دیں

کالم / تجزیہ

کامیابی کی سب سے بڑی غلط فہمی

سندھ طاس: ثالثی عدالت کے فیصلے کے بعد کیا ہو گا؟

وزیر آغا‘ ایک عہد جو مکالمہ بن گیا