پنجاب حکومت نے ماحولیاتی تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے محکمہ ماحولیات کو مزید اختیارات دینے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت پنجاب اسمبلی نے پنجاب ماحولیاتی تحفظ (ترمیم) ایکٹ 2026 منظور کر لیا ہے۔
ترمیمی ایکٹ کے مطابق پنجاب ماحولیاتی تحفظ ایکٹ 1997 میں متعدد اہم تبدیلیاں کی جائیں گی، جن کا مقصد مؤثر پالیسی سازی اور عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھیے محفوظ جنگلات میں کان کنی کی اجازت، پنجاب اسمبلی نے اہم قانون منظور کر لیا
بل کے تحت ماحولیاتی تحفظ کونسل میں ممبران کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ نئے ارکان میں سیکرٹری انڈسٹری، سیکرٹری زراعت، سیکرٹری جنگلات، سیکرٹری ٹرانسپورٹ، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ، 2 ارکانِ اسمبلی، چیمبر آف کامرس کے نمائندے اور ماحولیاتی تحفظ کے 5 ماہرین شامل ہوں گے۔
ایکٹ کے تحت وزیراعلیٰ پنجاب یا ان کے نامزد کردہ فرد کو کونسل کا چیئرپرسن برقرار رکھا گیا ہے، جبکہ وزیر ماحولیات بدستور وائس چیئرپرسن ہوں گے۔
قانون کے مطابق ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (ای پی اے) کے افسران کو وردیاں فراہم کرنے اور ان کی سرکاری گاڑیوں پر سبز بتیاں نصب کرنے کی منظوری بھی دی گئی ہے، تاکہ ان کی شناخت اور کارروائیوں میں سہولت پیدا ہو سکے۔
مزید برآں، ای پی اے افسران کو کارروائی کے دوران پولیس کی مدد حاصل کرنے کا اختیار دیا گیا ہے، جبکہ محکمہ ماحولیات کو حکومت کی اجازت سے عالمی اداروں سے معلومات اور تجاویز لینے اور بین الاقوامی سیمینارز میں شرکت کی بھی اجازت ہوگی۔
یہ بھی پڑھیے پنجاب اسمبلی: محفوظ جنگلات میں کان کنی کی اجازت دینے کے ترامیمی بل منظور
حکام کے مطابق یہ اقدامات ماحولیاتی قوانین کے بہتر نفاذ، نگرانی کے نظام کو مؤثر بنانے اور عالمی سطح پر تعاون بڑھانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
منظور شدہ بل کی حتمی منظوری گورنر پنجاب دیں گے، جس کے بعد اسے باقاعدہ نافذ العمل کیا جائے گا۔














