عالمی منڈی میں جمعے کے روز خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی جب ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایران اور امریکا پاکستان کے ذریعے ایک مجوزہ امن معاہدے پر رابطے میں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کیا اسلام آباد ایک بار پھر ایران اور امریکا کے درمیان امن مذاکرات کا مرکز بن سکتا ہے؟
سی این بی سی کی رپورٹ کے مطابق ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت میں 2 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی اور یہ 102.45 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔ جبکہ عالمی معیار برینٹ کروڈ کی قیمت 0.41 فیصد کمی کے بعد 109.95 ڈالر فی بیرل رہی۔
یہ پیشرفت اس رپورٹ کے بعد سامنے آئی جس میں کہا گیا کہ ایران نے پاکستان کے ثالثی کردار کے ذریعے امریکا کی جانب سے امن معاہدے کے مسودے میں کی گئی ترامیم پر اپنا جواب بھجوا دیا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جنگی اختیارات سے متعلق 60 دن کی آئینی ڈیڈ لائن کا سامنا ہے جو سنہ 1973 کے وارف پاورز ریزولوشن کے تحت لازم ہوتی ہے۔ اس قانون کے مطابق صدر کو فوجی تعیناتی کے 60 دن کے اندر کانگریس سے منظوری لینی ہوتی ہے بصورت دیگر فوج واپس بلانا ضروری ہوتا ہے تاہم کانگریس نے اب تک ایسی کوئی منظوری نہیں دی۔
مزید پڑھیے: امن مذاکرات: اسحاق ڈار اور دفتر خارجہ کی کوششیں قابلِ ستائش ہیں، ایرانی سفیر
امریکی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ تین ہفتے قبل ہونے والی جنگ بندی کے بعد حالات ختم ہو چکے ہیں جس کے تحت وائٹ ہاؤس کو کانگریس کی منظوری لینے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
ایک انتظامی اہلکار کے مطابق 7 اپریل کو ہونے والی جنگ بندی کے بعد امریکی اور ایرانی فورسز کے درمیان براہ راست فائرنگ نہ ہونے کی وجہ سے 60 دن کی مدت کا اطلاق ختم سمجھا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے تناظر میں پاکستان کی ثالثی کی کوششیں جاری ہیں، دفتر خارجہ
یہی مؤقف امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے بھی ہاؤس آرمڈ سروسز کمیٹی میں اپنی پیشی کے دوران پیش کیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ جنگ بندی نے عملی طور پر لڑائی کو روک دیا ہے۔














