ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو معاملہ، حکومتی ذرائع نے رینجرز کے استعمال کی تردید کردی

پیر 4 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حکومتی ذرائع نے ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو سے متعلق سامنے آنے والی خبروں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ عمارت کو تحویل میں لینے کے لیے رینجرز استعمال نہیں کی گئیں، جبکہ اس معاملے کو بلا جواز سنسنی خیز بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔

حکومتی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کو تحویل میں لینے کے لیے رینجرز کو استعمال نہیں کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ریڈ زون کی سیکیورٹی کے لیے رینجرز فورس پہلے ہی چوبیس گھنٹے تعینات رہتی ہے اور اس معمول کی تعیناتی کو سنسنی خیز بنا کر پیش کیا جا رہا ہے، جو بددیانتی کے مترادف ہے۔

یہ بھی پڑھیں ون کانسٹیٹیوشن ایونیو معاملے پر حکومت کے خلاف تنقید بلاجواز

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس عمارت میں 48 سفارتکاروں کے رہائش پذیر ہونے کی باتیں بھی غلط ہیں اور دستیاب معلومات کے مطابق وہاں صرف 9 سفارتکار رہتے تھے۔ اسی طرح یہ دعویٰ بھی بے بنیاد قرار دیا گیا ہے کہ ان سفارتکاروں کی موجودگی کے باعث کسی یورپی ملک نے وزارتِ خارجہ کو کوئی ڈیمارش دیا ہے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق لاہور کے کسی ڈویلپر سے متعلق کہانی میں بھی کوئی حقیقت نہیں، اور مستقبل کے کسی منصوبے یا استعمال میں ایسے کسی کردار کا ذکر محض افواہ سازی ہے۔

ذرائع نے مزید کہا کہ سعودی سرمایہ کاروں کے دورے سے متعلق جاری کی گئی بی این پی ٹاورز کی تصویر پرانی ہے، جو اس وقت کی ہے جب اس کے سابق مالک عبدالحفیظ پاشا اور گوہر اعجاز بین الاقوامی سرمایہ کار تلاش کر رہے تھے۔

حکام کے مطابق یہ معاملہ مڈل کلاس کے خلاف نہیں بلکہ قانون، معاہدوں اور ان کی خلاف ورزیوں سے متعلق ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ بعض حلقے اس لیے شور مچا رہے ہیں کیونکہ ان کے اپنے فلیٹس اس عمارت میں موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیں اسلام آباد کے متنازع ’ون کانسٹیٹیوشن ایونیو‘ کی لیز منسوخ

ذرائع کے مطابق تعمیرات 2007 تک مکمل ہونا تھیں، تاہم بی این پی نے مقررہ ٹائم لائن کی خلاف ورزی کی۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت 17 ارب روپے ادا کرنا لازم تھا، مگر ابتدائی رقم کے علاوہ خاطر خواہ ادائیگی نہیں کی گئی۔

حکومتی مؤقف کے مطابق سی ڈی اے ایک خودمختار ادارہ ہے جو قانون کے مطابق فیصلے کرتا ہے، تاہم چند عناصر اس قانونی کارروائی کو ’سیاسی انتقام‘ کا رنگ دے رہے ہیں کیونکہ ان کے ذاتی مفادات اس متنازعہ منصوبے سے وابستہ ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وسطی ایشیا میں نایاب معدنیات پر امریکی اور یورپی سرگرمیوں پر روس کو تشویش

اداکارہ مومنہ اقبال کے مسلم لیگ (ن) کے ایم پی اے پر سنگین الزامات، مریم نواز سے ایکشن کا مطالبہ

کانگو میں ایبولا وبا شدت اختیار کرگئی، عالمی ادارۂ صحت کا ہنگامی انتباہ

پاکستان نے قازق سرمایہ کاروں کو گوادر اور کراچی بندرگاہوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دے دی

سلہٹ ٹیسٹ: بارش سے متاثرہ آخری روز پاکستان 121 رنز کے تعاقب میں

ویڈیو

مجھے ستارہ امتیاز کسی مخصوص شوٹ پر نہیں مجموعی کام کے اعتراف میں ملا، عرفان احسن کا ’حاسدین‘ کو جواب

خیبر پختونخوا: پی ٹی آئی کے 13 سالہ اقتدار کے بارے میں لوگوں کی رائے کیا ہے؟

انمول پنکی نے کن شخصیات کے خلاف بیانات دیے؟ وکیل نے ملاقات کی تفصیلات بتا دیں

کالم / تجزیہ

کامیابی کی سب سے بڑی غلط فہمی

سندھ طاس: ثالثی عدالت کے فیصلے کے بعد کیا ہو گا؟

وزیر آغا‘ ایک عہد جو مکالمہ بن گیا