حکومتی ذرائع نے ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو سے متعلق سامنے آنے والی خبروں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ عمارت کو تحویل میں لینے کے لیے رینجرز استعمال نہیں کی گئیں، جبکہ اس معاملے کو بلا جواز سنسنی خیز بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔
حکومتی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کو تحویل میں لینے کے لیے رینجرز کو استعمال نہیں کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ریڈ زون کی سیکیورٹی کے لیے رینجرز فورس پہلے ہی چوبیس گھنٹے تعینات رہتی ہے اور اس معمول کی تعیناتی کو سنسنی خیز بنا کر پیش کیا جا رہا ہے، جو بددیانتی کے مترادف ہے۔
یہ بھی پڑھیں ون کانسٹیٹیوشن ایونیو معاملے پر حکومت کے خلاف تنقید بلاجواز
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس عمارت میں 48 سفارتکاروں کے رہائش پذیر ہونے کی باتیں بھی غلط ہیں اور دستیاب معلومات کے مطابق وہاں صرف 9 سفارتکار رہتے تھے۔ اسی طرح یہ دعویٰ بھی بے بنیاد قرار دیا گیا ہے کہ ان سفارتکاروں کی موجودگی کے باعث کسی یورپی ملک نے وزارتِ خارجہ کو کوئی ڈیمارش دیا ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق لاہور کے کسی ڈویلپر سے متعلق کہانی میں بھی کوئی حقیقت نہیں، اور مستقبل کے کسی منصوبے یا استعمال میں ایسے کسی کردار کا ذکر محض افواہ سازی ہے۔
ذرائع نے مزید کہا کہ سعودی سرمایہ کاروں کے دورے سے متعلق جاری کی گئی بی این پی ٹاورز کی تصویر پرانی ہے، جو اس وقت کی ہے جب اس کے سابق مالک عبدالحفیظ پاشا اور گوہر اعجاز بین الاقوامی سرمایہ کار تلاش کر رہے تھے۔
حکام کے مطابق یہ معاملہ مڈل کلاس کے خلاف نہیں بلکہ قانون، معاہدوں اور ان کی خلاف ورزیوں سے متعلق ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ بعض حلقے اس لیے شور مچا رہے ہیں کیونکہ ان کے اپنے فلیٹس اس عمارت میں موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں اسلام آباد کے متنازع ’ون کانسٹیٹیوشن ایونیو‘ کی لیز منسوخ
ذرائع کے مطابق تعمیرات 2007 تک مکمل ہونا تھیں، تاہم بی این پی نے مقررہ ٹائم لائن کی خلاف ورزی کی۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت 17 ارب روپے ادا کرنا لازم تھا، مگر ابتدائی رقم کے علاوہ خاطر خواہ ادائیگی نہیں کی گئی۔
حکومتی مؤقف کے مطابق سی ڈی اے ایک خودمختار ادارہ ہے جو قانون کے مطابق فیصلے کرتا ہے، تاہم چند عناصر اس قانونی کارروائی کو ’سیاسی انتقام‘ کا رنگ دے رہے ہیں کیونکہ ان کے ذاتی مفادات اس متنازعہ منصوبے سے وابستہ ہیں۔














