پاک بحریہ کے ریئر ایڈمرل علی نے کہا ہے کہ ’معرکہِ حق‘ کو ایک تاریخی اور ناقابلِ فراموش معرکہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس تنازع نے دشمن کی نام نہاد بحری برتری کا پول کھول دیا ہے۔
ریئر ایڈمرل علی کا کہنا تھا کہ معرکہ شروع ہونے سے قبل دشمن اپنی بحری صلاحیتوں پر حد درجہ نازاں تھا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی بحریہ اپنے دفاعی بجٹ کا ایک خطیر حصہ ہڑپ کر جاتی تھی اور ’میڈ ان انڈیا‘ سمیت ’نیٹ سیکیورٹی پرووائیڈر‘ اور ’بلیو واٹر نیوی‘ جیسے بڑے بڑے دعوے کیے جاتے تھے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب وقت آیا تو وہ پاکستان کے خلاف ہمت جمع کرنے میں مکمل ناکام رہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کا دہشتگردی بیانیہ دفن ہو چکا، معرکہ حق میں پاکستان نے ذمہ دارانہ کردار ادا کیا، ڈی جی آئی ایس پی آر
ترجمان کے مطابق بھارتی بحریہ نے ’معرکہِ حق‘ کے دوران شمالی بحیرہ عرب میں اپنے جنگی بیڑے تعینات کرنے کی کوشش کی تھی جس کا بنیادی مقصد پاکستانی بحری اثاثوں کو نشانہ بنانا اور تجارتی راستوں (سی لائنز) میں رکاوٹ ڈال کر ملک کو معاشی نقصان پہنچانا تھا، تاہم پاک بحریہ کی فول پروف حکمت عملی کے باعث تمام آبی گزرگاہوں میں بحری ٹریفک بلاتعطل جاری رہی اور پاکستان کی تمام بندرگاہیں معمول کے مطابق فعال رہیں۔
The navy remains fully prepared and vigilant to safeguard the country’s maritime boundaries; it is well equipped to counter any external threat and defend Pakistan’s sea frontiers in both peace and wartime. – Rear Admiral Shafaat Ali, deputy chief of naval staff (operations)… pic.twitter.com/pIEpd7SXfk
— Pakistan TV (@PakTVGlobal) May 7, 2026
ریئر ایڈمرل علی نے انکشاف کیا کہ پاک بحریہ اپنے جدید ترین نگرانی کے نظام کے ذریعے دشمن کی ہر نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھی۔ انہوں نے کہا ’پاک بحریہ اور پاک فضائیہ بھارتی طیارہ بردار بحری جہاز ’وکرانت‘ کو نیست و نابود کرنے کے لیے پوری طرح تیار تھے، یہی وجہ تھی کہ بھارتی بحریہ اپنے محفوظ ٹھکانوں سے باہر نکلنے کی جرات نہ کر سکی۔‘
یہ بھی پڑھیں: معرکہ حق کے دوران بھارت کے 8 طیارے مار گرائے، اسکور 8-0 رہا، ڈپٹی چیف آف ایئر اسٹاف
انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ پاکستان امن کا خواہشمند ضرور ہے لیکن اسے ہماری کمزوری ہرگز نہ سمجھا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاک بحریہ کسی بھی جارحیت یا ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اپنی تیاریوں میں ذرا برابر بھی غافل نہیں ہے اور وطنِ عزیز کی سمندری سرحدوں کا دفاع ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔













