ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان پر دہشتگردی کے الزامات کا بیانیہ اب مکمل طور پر بے نقاب ہو چکا ہے اور معرکہ حق کے دوران دنیا نے دیکھ لیا کہ خطے میں ذمہ دارانہ کردار کون ادا کر رہا تھا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری نے معرکہ حق کو ایک سال مکمل ہونے پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلگام واقعے کو ایک سال گزرنے کے باوجود کئی اہم سوالات آج بھی عالمی برادری، پاکستانی عوام اور خود بھارتی عوام کے سامنے موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:معرکہ حق: انٹیلیجنس اور ڈرون صلاحیت نے جنگ میں اہم کردار ادا کیا، وزیر داخلہ محسن نقوی کی پریس کانفرنس
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ معرکہ حق کے ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر پاکستان کی مسلح افواج، بحریہ اور فضائیہ کی کارکردگی اور اس دوران پیش آنے والے واقعات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلگام واقعے کے فوراً بعد چند ہی منٹوں میں ایف آئی آر درج کر کے یہ دعویٰ کر دیا گیا کہ حملہ آور باہر سے آئے تھے، حالانکہ آج تک اس حوالے سے کوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہیں لایا گیا۔
In his news conference DG ISPR stated that India blamed Pakistan without evidence, registered an FIR within ten minutes, and launched attacks under the pretext of a false flag operation to destabilize regional security — but Pakistan's resolute response has now established it as… pic.twitter.com/HKvkof1b0C
— Pakistan TV (@PakTVGlobal) May 7, 2026
ان کا کہنا تھا کہ اگر بھارتی انٹیلیجنس اتنی ہی مؤثر اور باخبر تھی تو سینکڑوں کلومیٹر اندر آنے والے افراد کے بارے میں پہلے سے معلومات کیوں نہ مل سکیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس وقت بھارتی ادارے کہاں تھے اور کیا کر رہے تھے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ آج بھی بین الاقوامی برادری یہی سوال کر رہی ہے کہ پہلگام واقعے کے پیچھے کون تھا اور اس کا مقصد کیا تھا۔ ان کے مطابق پاکستان کے عوام کے ساتھ ساتھ بھارت کے باشعور حلقے بھی ان سوالات کے جواب مانگ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:معرکہ حق کا ایک سال مکمل: کسی بھی جارحیت کا جواب پہلے سے زیادہ طاقت سے دیا جائےگا، پاک فوج کا دشمن کو پیغام
انہوں نے مزید کہا کہ واقعے کے اگلے ہی روز بھارتی وزیر اطلاعات بین الاقوامی میڈیا کو ساتھ لے کر گئے، تاہم اس کے باوجود دنیا کو قابلِ اعتماد شواہد فراہم نہیں کیے جا سکے۔
پریس کانفرنس کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بین الاقوامی میڈیا نمائندے مختلف مقامات اور مساجد تک گئے اور انہوں نے خود یہ سوال اٹھایا کہ آخر حملوں میں کون لوگ نشانہ بنے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا نے دیکھا کہ متاثرین میں بچے، خواتین، بزرگ اور عام شہری شامل تھے۔
DG ISPR says Pakistan gave a befitting reply to Indian aggression, adding that the false Indian narrative of labeling Pakistan as a source of terrorism has been buried forever, as the international community now fully recognizes Pakistan as a victim of Indian-sponsored terrorism… pic.twitter.com/MHocxc1OUP
— Pakistan TV (@PakTVGlobal) May 7, 2026
انہوں نے کہا کہ بھارت بار بار پاکستان پر دہشتگردی کے الزامات لگاتا رہا، لیکن معرکہ حق کے بعد یہ ڈراما ہمیشہ کے لیے دفن ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ دنیا اب خود دیکھ رہی ہے کہ خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والا کردار کون ادا کر رہا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان نے معرکہ حق کے دوران انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور کشیدگی کو قابو میں رکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے نہ صرف خطے کے امن کو مقدم رکھا بلکہ صورتحال کو مزید خطرناک ہونے سے بھی روکا۔
انہوں نے کہا کہ دنیا نے یہ بھی دیکھا کہ کشیدگی کو کنٹرول کرنے اور خطے کو مستحکم رکھنے میں پاکستان نے ذمہ دار ریاست کا کردار ادا کیا، جبکہ بھارت جذباتی بیانات، سیاسی مقاصد اور اشتعال انگیز رویوں کے ذریعے پورے خطے کو خطرے میں ڈالنے کی کوشش کرتا رہا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بھارت خود کو خطے کا نیٹ ’سیکیورٹی پرووائیڈر‘ ظاہر کرنے کی کوشش کرتا رہا، تاہم معرکہ حق کے دوران عالمی برادری نے حقیقت اپنی آنکھوں سے دیکھ لی۔
ڈی جی آئی ایس پی آراحمد شریف چوہدری نے مزید کہا کہ اگر آج بھی خطے میں استحکام کے لیے سب سے زیادہ کوئی ملک کوشش کر رہا ہے تو وہ پاکستان ہے۔
DG ISPR Lieutenant General Ahmed Sharif Chaudhry, accompanied by senior officers of the Pakistan Navy and Pakistan Air Force, holds news conference marking the first commemoration of Marka-e-Haq.#ISPR #DGISPR #LtGenAhmedSharifChaudhry #PakistanArmy #BunyanUmMarsoos #PakistanTV pic.twitter.com/RaxxsIva5x
— Pakistan TV (@PakTVGlobal) May 7, 2026
انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران بھارت کی نام نہاد پیشہ ورانہ عسکری سوچ کی کئی مثالیں سامنے آئیں۔ ان کے مطابق بعض مواقع پر بھارتی عسکری قیادت کی جانب سے ایسے بیانات دیے گئے جو ایک پیشہ ور فوجی رویے کے بجائے سیاسی نوعیت کے دکھائی دیے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت کی فوجی قیادت اپنے سیاسی بیانیے کو فوجی اداروں میں منتقل کرنے کی کوشش کرتی دکھائی دی، جبکہ پاکستان کی مسلح افواج نے پورے عرصے کے دوران مکمل پیشہ ورانہ طرزِ عمل اختیار کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فوج کے کسی افسر نے کبھی سیاسی قیادت کے بیانات کو بنیاد بنا کر اشتعال انگیز طرزِ گفتگو اختیار نہیں کیا، جبکہ بھارتی سیاست دانوں کے بیانات اکثر جنگی ماحول پیدا کرنے والے محسوس ہوتے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارتی قیادت کی جانب سے مسلسل اشتعال انگیز نعرے اور جارحانہ بیانات سامنے آتے رہے، لیکن پاکستان نے ہر موقع پر ذمہ داری، تحمل اور پیشہ ورانہ انداز اپنایا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اگر بھارت کو کسی معاملے پر اعتراض یا اختلاف ہے تو اسے اشتعال انگیز بیانات کے بجائے براہِ راست اور ذمہ دارانہ انداز میں بات کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں:معرکہ حق کا ایک سال مکمل، مظفرآباد میں پروقار تقریب، ’پاکستان زندہ باد، پاک فوج زندہ باد‘ کے نعروں کی گونج
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت کو اپنے اندرونی اور بیرونی مسائل کا سامنا ہے، لیکن وہ ان مسائل کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کے اندر کشمیر سمیت مختلف علاقوں میں مسلمانوں، عیسائیوں اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے، وہ دنیا کے سامنے ہے۔ ان کے مطابق منی پور اور دیگر علاقوں میں بھی صورتحال تشویشناک رہی، تاہم ان مسائل کے باوجود بھارت مسلسل پاکستان پر الزامات عائد کرتا رہا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ مسئلہ کشمیر ایک بین الاقوامی تنازع ہے، جس پر اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے آبادی کا تناسب تبدیل کرنے، قانونی تبدیلیاں کرنے اور دیگر اقدامات کے باوجود کشمیر کا مسئلہ اپنی جگہ موجود ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب بھارت کو اپنے داخلی اور خارجی مسائل کا سامنا ہوتا ہے تو وہ دہشتگردی کے بیانیے کو استعمال کرنا شروع کر دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت مختلف واقعات کا الزام دوسروں پر ڈالنے کی کوشش کرتا ہے، جبکہ بعض اوقات اپنے ہی ملک میں پیش آنے والے واقعات کو بھی سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ کوئی نئی حکمت عملی نہیں بلکہ بھارت طویل عرصے سے اسی طرزِ عمل پر عمل پیرا ہے۔
On May 7, 2025, Pakistan responded to Indian aggression with restraint and resolve, firmly upholding its sovereignty and territorial integrity in line with international law, while reaffirming its commitment to regional peace and stability. pic.twitter.com/3EmHIKlmaM
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) May 7, 2026
ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان نے معرکہ حق اور بنیان مرصوص کے دوران جدید جنگ کے مختلف پہلوؤں کا عملی تجربہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ آج کی جنگ صرف روایتی میدانوں تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ ایک کثیر جہتی جنگ بن چکی ہے، جو فضا، زمین، سمندر، سائبر، اطلاعات اور انسانی ذہنوں تک پھیل چکی ہے۔
ان کے مطابق اس نوعیت کی جنگ کے اثرات شہروں، دیہاتوں، گلیوں اور عام شہریوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جدید جنگ میں صرف ہتھیار ہی نہیں بلکہ معلومات، بیانیہ اور ذہنی سطح پر اثرانداز ہونے کے حربے بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان نے ان تمام چیلنجز کا سامنا کیا اور ہر میدان میں تیاری اور مؤثر حکمت عملی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی تیار تھا، دورانِ معرکہ بھی مکمل طور پر متحرک رہا اور اب بھی ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان نے معرکہ حق کے دوران واضح پیغام دیا کہ ملک کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا اور ہر قسم کی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی مکمل صلاحیت موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں:معرکہ حق پاکستانی تاریخ کا درخشاں باب، ملکی خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائےگا، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ
انہوں نے کہا کہ پاکستان ہر چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے اور دشمن کی کسی بھی کارروائی کا مؤثر اور فوری جواب دیا جائے گا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بانیٔ پاکستان محمد علی جناح کا یہ مؤقف آج بھی پوری قوت کے ساتھ زندہ ہے کہ پاکستان کے خلاف کوئی سازش یا جارحیت کامیاب نہیں ہو سکتی۔
انہوں نے کہا کہ معرکہ حق نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری، سلامتی اور دفاع کے معاملے میں متحد اور مضبوط ہے، اور عالمی سطح پر بھی اس مؤقف کو تسلیم کیا جا رہا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری نے کہا کہ معرکہ حق کے دوران پاکستان نے دنیا کو یہ دکھایا کہ ملک، افواج، قیادت اور عوام ایک صفحے پر کھڑے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بعض حلقوں کو یہ شک تھا کہ پاکستان اندرونی طور پر متحد نہیں، تاہم حالات نے ثابت کر دیا کہ بچے سے لے کر بزرگ تک، غریب سے لے کر امیر تک، کشمیر سے گوادر تک پوری قوم ایک ہو کر کھڑی رہی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ قومی اتحاد اللہ تعالیٰ کی خاص نعمت ہے، جس پر پوری قوم شکر گزار ہے۔ ان کے مطابق معرکہ حق کے ایک سال مکمل ہونے پر اس پورے عرصے کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ پاکستان نے کن حالات کا سامنا کیا اور خطے میں کیا صورتحال رہی۔
Operation Ghazab-Lil-Haq was launched after repeated requests to Kabul to stop backing terrorists went unanswered. -DG ISPR#PakistanArmy #PakistanAirForce #PakistanNavy #BunyanUmMarsoos #PakistanTV pic.twitter.com/wOzyTuTyCy
— Pakistan TV (@PakTVGlobal) May 7, 2026
انہوں نے کہا کہ اس تناظر میں یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ مشرقی ہمسایہ ملک بھارت اس دوران کس طرزِ عمل اور حکمت عملی پر عمل کرتا رہا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری نے کہا کہ بھارت کے اندر سیاسی، عسکری اور سماجی سطح پر بڑھتے ہوئے مسائل واضح ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہاں اقلیتوں کے ساتھ ریاستی رویے پر سوالات اٹھ رہے ہیں اور مختلف طبقات میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ بعض اوقات مختلف مذہبی برادریوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے، جس پر اندرونی اور بیرونی سطح پر بحث جاری رہتی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت کے اندرونی حالات اور سماجی تقسیم وقت کے ساتھ مزید نمایاں ہو رہی ہے، جس کے اثرات اس کی مجموعی سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال پر بھی پڑ رہے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان نے معرکہ حق کے دوران ایک واضح، منظم اور پروفیشنل فوجی حکمتِ عملی کا مظاہرہ کیا، جبکہ مخالف جانب سے مختلف سطحوں پر غیر سنجیدہ اور غیر پیشہ ورانہ طرزِ عمل سامنے آیا۔
یہ بھی پڑھیں:معرکہ حق کا ایک سال: وزارت اطلاعات کے زیراہتمام کتاب ’دی بیٹل آف ٹروتھ‘ کی رونمائی
انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران بعض مواقع پر بھارتی عسکری اور میڈیا بیانیے میں تسلسل اور سنجیدگی کا فقدان نظر آیا، جبکہ پاکستان نے ہر موقع پر اپنی بات واضح، ذمہ دارانہ اور پیشہ ورانہ انداز میں دنیا کے سامنے رکھی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے معرکہ حق کے دوران ہر صورتحال میں مکمل تیاری اور تحمل کا مظاہرہ کیا، جبکہ بعض بھارتی میڈیا چینلز اور دفاعی حلقوں کی جانب سے جذباتی اور غیر متوازن بیانات سامنے آتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک پیشہ ور فوج کا طرزِ عمل یہی ہوتا ہے کہ وہ حقائق اور حکمتِ عملی کے ساتھ بات کرے، نہ کہ غیر ضروری جذبات یا غیر مصدقہ دعوؤں پر انحصار کرے۔
ان کے مطابق پاکستان نے پورے سال کے دوران اپنی دفاعی پالیسی اور آپریشنل تیاری کو تسلسل کے ساتھ برقرار رکھا اور ہر سطح پر اپنی صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ کیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ خطے میں استحکام کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریقین سنجیدہ، ذمہ دار اور حقیقت پر مبنی رویہ اپنائیں، کیونکہ غیر ضروری بیانیہ نہ صرف غلط فہمیاں پیدا کرتا ہے بلکہ علاقائی امن کے لیے بھی نقصاندہ ثابت ہوتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری نے کہا کہ مئی 2025 میں معرکہ حق کے دوران پاکستان نے اپنی دفاعی حکمتِ عملی کے تحت مختلف اقدامات کیے جن کا تسلسل اکتوبر 2025 تک جاری رہا۔
The Tri-Services press conference has begun ⚓ ⚔️ 🦅 🇵🇰
“We welcome you to ISPR on this happy day." – DG ISPR pic.twitter.com/XgGUh19XXo
— Pakistan Strategic Forum (@ForumStrategic) May 7, 2026
انہوں نے کہا کہ اس دوران پاکستان نے افغانستان میں موجود دہشتگرد نیٹ ورکس اور ان کے معاون ڈھانچوں کے خلاف بھی کارروائیوں کی نشاندہی کی اور انہیں ختم کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان نے بارہا یہ مؤقف اپنایا کہ ملک میں ہونے والی دہشتگردی کے تانے بانے بیرونی روابط سے جڑے ہیں، جن میں بعض عناصر افغانستان کی سرزمین کا استعمال بھی کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اس مسئلے کے حل کے لیے مسلسل مذاکرات اور رابطے کی کوشش کی اور یہ اصولی مؤقف اپنایا کہ کسی بھی ملک کی سرزمین کو دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونا چاہیے۔
ان کے مطابق پاکستان نے اس پورے عرصے میں ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی اور عسکری دونوں سطحوں پر اپنی کوششیں جاری رکھیں۔
یہ بھی پڑھیں:معرکہ حق کی یاد منانا بھارت کے لیے واضح پیغام، چیلنجز کے مدمقابل ’بنیان مرصوص‘ کی مانند متحد ہیں، کور کمانڈرز کانفرنس
ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان نے معرکہ حق کے دوران سرحدی صورتحال اور سیکیورٹی چیلنجز پر مؤثر کنٹرول برقرار رکھا۔
انہوں نے کہا کہ بارڈر فسیلیٹیشن اور سرحد پار نقل و حرکت کے معاملات میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے اور پاکستان نے دہشتگردی کے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیوں کے ذریعے صورتحال کو بہتر بنایا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق معرکہ حق کے دوران پاکستان کی کارروائیوں کے بعد خطے میں طاقت کا توازن واضح طور پر تبدیل ہوا، جس کے نتیجے میں مخالف فریق کو اپنی حکمت عملی پر نظرِ ثانی کرنا پڑی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف ہمیشہ واضح رہا ہے کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے خطے کے تمام ممالک کو ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا۔
ان کے مطابق پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن اور تعاون کی بات کی ہے، جبکہ بعض عناصر کی جانب سے انتہاپسندانہ بیانیے اور متنازع روابط خطے کے استحکام کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں۔
ڈی جی آیس پی آر نے کہا کہ جب معرکہ حق کے تناظر میں ہندوستان کو سبق سکھایا گیا تو اس نے نام نہاد افغان وزیر خارجہ کو بلایا اور افغان طالبان سے رابطے کیے کہ ہماری مدد کریں، ہم تمہارے ساتھ بیٹھتے ہیں اور بات کرتے ہیں۔ کیونکہ وہاں جو لوگ بیٹھے ہیں، ان کے قریبی تعلقات انہی عناصر کے ساتھ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:افواج پاکستان کا ’معرکہ حق‘ میں بھارت کو دیا گیا جواب ہمیشہ یاد رکھا جائےگا، سردار یوسف
انہوں نے کہا کہ یہ لوگ خود کو اسلام کے علمبردار کہتے ہیں مگر دوسری طرف ہندوتوا کے نظریے کو فروغ دینے والے عناصر کے ساتھ ان کے روابط بھی سامنے آتے ہیں، جو مسلمانوں سمیت مختلف طبقات پر ظلم و ستم میں ملوث رہے ہیں۔ ان کے اپنے بیانات اور اقدامات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ ایک طرف مذہب کا دعویٰ کرتے ہیں اور دوسری طرف ایسے گروہوں سے تعلق رکھتے ہیں جو خطے میں انتشار اور تشدد کو ہوا دیتے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری بیانیہ جنگ میں بھارتی بیانات اکثر غیر حقیقت پسندانہ اور تضادات کا شکار ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے جاری بعض سرکاری بیانات میں پاکستان کو مختلف امور سے جوڑنے کی کوشش کی جاتی ہے، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں اور پاکستان کا کسی بھی غیر قانونی یا غیر ریاستی سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان واضح کرتا آیا ہے کہ وہ نہ صرف اپنی سرزمین بلکہ خطے میں امن و استحکام کے اصولی مؤقف پر قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردی اور انتہاپسندی کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف ہمیشہ واضح رہا ہے کہ ان عناصر کا کسی بھی مذہب، ریاست یا قوم سے کوئی تعلق نہیں۔
ان کے مطابق پاکستان سیکیورٹی فورسز اور ریاستی ادارے ملک کے دفاع اور امن کے تحفظ کے لیے مسلسل فعال ہیں اور کسی بھی منفی پروپیگنڈے کو زمینی حقائق سے نہیں جوڑا جا سکتا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان اور اس کی عسکری قیادت کو بعض عناصر کی جانب سے غیر ضروری طور پر موضوع بنایا جاتا ہے، تاہم زمینی حقائق اور سرکاری مؤقف واضح ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں دی گئی پریس بریفنگز میں بھی صورتحال اور دفاعی حکمت عملی سے متعلق آگاہ کیا گیا تھا اور پاکستان نے ہمیشہ اپنی دفاعی تیاریوں کو واضح انداز میں پیش کیا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان اپنی دفاعی صلاحیتوں اور آپریشنل تیاریوں کے حوالے سے مکمل طور پر مستعد ہے اور وقتاً فوقتاً عوام کو پیشرفت سے آگاہ کیا جاتا ہے تاکہ کسی غلط فہمی یا ابہام کی گنجائش نہ رہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مقصد شفافیت اور واضح پیغام دینا ہے تاکہ بعد میں کسی بھی فریق کو صورتحال کے بارے میں غلط تاثر نہ رہے۔
معرکہ حق کے دوران بھارت کے 8 طیارے مار گرائے، اسکور 8-0 رہا، ڈپٹی چیف آف ایئر اسٹاف
پاک فضائیہ کے ڈپٹی چیف آف ایئر اسٹاف پراجیکٹس ایئر وائس مارشل طارق غازی نے کہا ہے کہ ‘آپریشن بنیان المرصوص’ کے دوران پاک فضائیہ نے بھارت کے 8 جنگی طیارے تباہ کیے، جس کے بعد ‘اسکور 0-8’ ہو چکا ہے۔
راولپنڈی میں ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایئر وائس مارشل طارق غازی نے بتایا کہ تباہ کیے گئے بھارتی طیاروں میں 4 رافیل، ایک ایس یو-30، ایک مگ-29 اور ایک میراج 2000 شامل تھا، جبکہ ایک جدید اور مہنگا خودکار فضائی نظام بھی نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ پاک فضائیہ نے معرکہ حق میں پیشہ ورانہ مہارت اور جدید جنگی حکمت عملی کا مظاہرہ کیا، جس کے باعث دشمن کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔
Pakistan Air Force downed eight Indian jets, including four Rafales, during Marka-e-Haq; Indian aircraft were targeted at will, Marka-e-Haq a classic case study of modern air warfare. – Air Vice Marshal Tariq Ghazi, deputy chief of air staff (projects)#PAF #MarkaEHaq… pic.twitter.com/LbIYGswY03
— Pakistan TV (@PakTVGlobal) May 7, 2026
انہوں نے کہا کہ پاک فضائیہ ملک کی فضائی سرحدوں کے دفاع کے لیے ہر وقت مکمل طور پر تیار اور پُرعزم ہے، جبکہ شاہینوں کی بروقت اور مؤثر کارروائیوں کے باعث دشمن پاکستانی فضائی حدود کے قریب بھی آنے کی ہمت نہ کر سکا۔
ڈپٹی چیف آف ائیر اسٹاف کے مطابق سائبر فورس نے بھی معرکے میں اہم کردار ادا کیا اور دشمن کے کمیونیکیشن نظام کو ناکارہ بنا دیا، جبکہ دشمن کی ہر سرگرمی پر مسلسل نظر رکھی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پاک فضائیہ نے دشمن کے ڈیجیٹل فٹ پرنٹس کو بھی ٹریک کیا، جس کے باعث بھارتی فورسز شدید دباؤ کا شکار رہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ دشمن آج تک یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ اس کے ساتھ آخر ہوا کیا، کیونکہ پاک فضائیہ نے جدید حکمت عملی اور پیشہ ورانہ مہارت کے ذریعے دشمن کے جنگی طیارے مار گرائے اور اپنی فضائی برتری منوائی۔
’معرکہِ حق‘ ایک تاریخی جدوجہد، دشمن کے بحری برتری کے دعوے خاک میں مل گئے، ریئر ایڈمرل علی
پاک بحریہ کے ریئر ایڈمرل علی نے کہا ہے کہ ’معرکہِ حق‘ کو ایک تاریخی اور ناقابلِ فراموش معرکہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس تنازع نے دشمن کی نام نہاد بحری برتری کا پول کھول دیا ہے۔
ریئر ایڈمرل علی کا کہنا تھا کہ معرکہ شروع ہونے سے قبل دشمن اپنی بحری صلاحیتوں پر حد درجہ نازاں تھا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی بحریہ اپنے دفاعی بجٹ کا ایک خطیر حصہ ہڑپ کر جاتی تھی اور ’میڈ ان انڈیا‘ سمیت ’نیٹ سیکیورٹی پرووائیڈر‘ اور ’بلیو واٹر نیوی‘ جیسے بڑے بڑے دعوے کیے جاتے تھے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب وقت آیا تو وہ پاکستان کے خلاف ہمت جمع کرنے میں مکمل ناکام رہے۔
The navy remains fully prepared and vigilant to safeguard the country’s maritime boundaries; it is well equipped to counter any external threat and defend Pakistan’s sea frontiers in both peace and wartime. – Rear Admiral Shafaat Ali, deputy chief of naval staff (operations)… pic.twitter.com/pIEpd7SXfk
— Pakistan TV (@PakTVGlobal) May 7, 2026
ترجمان کے مطابق بھارتی بحریہ نے ’معرکہِ حق‘ کے دوران شمالی بحیرہ عرب میں اپنے جنگی بیڑے تعینات کرنے کی کوشش کی تھی جس کا بنیادی مقصد پاکستانی بحری اثاثوں کو نشانہ بنانا اور تجارتی راستوں (سی لائنز) میں رکاوٹ ڈال کر ملک کو معاشی نقصان پہنچانا تھا، تاہم پاک بحریہ کی فول پروف حکمت عملی کے باعث تمام آبی گزرگاہوں میں بحری ٹریفک بلاتعطل جاری رہی اور پاکستان کی تمام بندرگاہیں معمول کے مطابق فعال رہیں۔
ریئر ایڈمرل علی نے انکشاف کیا کہ پاک بحریہ اپنے جدید ترین نگرانی کے نظام کے ذریعے دشمن کی ہر نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھی۔ انہوں نے کہا:
“پاک بحریہ اور پاک فضائیہ بھارتی طیارہ بردار بحری جہاز ’وکرانت‘ کو نیست و نابود کرنے کے لیے پوری طرح تیار تھے، یہی وجہ تھی کہ بھارتی بحریہ اپنے محفوظ ٹھکانوں سے باہر نکلنے کی جرات نہ کر سکی۔”
انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ پاکستان امن کا خواہشمند ضرور ہے لیکن اسے ہماری کمزوری ہرگز نہ سمجھا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاک بحریہ کسی بھی جارحیت یا ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اپنی تیاریوں میں ذرا برابر بھی غافل نہیں ہے اور وطنِ عزیز کی سمندری سرحدوں کا دفاع ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔














