مری مال روڈ پر آپریشن، بازار بند ہونے سے سیاحوں کو خوراک اور رہائش کے مسائل

جمعرات 7 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کے ہر کونے کونے سے سیاح ملکہ کوہسار مری کا رخ کرتے ہیں اور یہاں سب سے اہم سیاحتی مقام مال روڈ ہے جس پر پورا سال سیاحوں کا رش رہتا ہے، تاہم اب مال روڈ اور جی پی او چوک کے اطراف حکومتِ پنجاب کے ترقیاتی و بیوٹیفکیشن منصوبے کے تحت آپریشن کا آغاز کر رکھا ہے اور ہوٹلوں کی بڑی عمارتوں کو گرایا جارہا ہے، جبکہ انجمن تاجران نے اس کے خلاف مکمل ہڑتال کی کال دے رکھی ہے جو کہ تیسرے روز بھی جاری رہی۔ سخت سیکیورٹی، بند بازاروں اور لاک ڈاؤن جیسی صورتحال کے باعث ملک بھر سے آنے والے سیاحوں اور مقامی شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مری کے جنگلات میں تجاوزات کے خلاف گرینڈ آپریشن، متعدد تعمیرات مسمار

حکومتِ پنجاب کے “مری ڈویلپمنٹ پلان” کے تحت مال روڈ اور اطراف کے علاقوں میں بیوٹیفکیشن اور ری ماڈلنگ کا عمل جاری ہے۔ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یہ کوئی قبضہ واگزار کرانے کی کارروائی نہیں بلکہ حکومت کی جانب سے باقاعدہ طور پر اراضی ایکوائر کیے جانے کے بعد منصوبے پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے، جی پی او مری کے قریب تقریباً 20 کنال اراضی کو واگزار کیا جائے گا جبکہ بیک اینڈ ایریا میں واقع متعدد ہوٹلوں اور عمارتوں کو بھی مسمار کیا جائے گا۔

آپریشن کا آغاز جی پی او سائیڈ سے کیا گیا، جبکہ اس سے قبل مرحبا چوک اور مولوی والی سائیڈ پر کارروائی کی جا چکی تھی۔ تاج محل اور دیگر عمارتوں کے بعض حصے بھی گزشتہ روز گرا دیے گئے تھے۔ آج “سمر پیلس” ہوٹل سمیت کئی نمایاں عمارتوں پر بھاری مشینری کے ذریعے ڈیمولیشن کا عمل جاری رہا۔

جی پی او چوک اور مال روڈ کے اطراف سیکیورٹی کے غیرمعمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ پنجاب پولیس، ایلیٹ فورس، پیرا فورس، سول ڈیفنس اور دیگر اداروں کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے جبکہ پولیس کی جانب سے دو سے زیادہ افراد کو ایک مقام پر کھڑے ہونے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ انتظامیہ کے مطابق یہ اقدامات کسی ممکنہ احتجاج یا ہجوم کو روکنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مال روڈ مری پر فائر ہائیڈرینٹ نصب، فائر سیفٹی نظام مزید مضبوط

دوسری جانب انجمن تاجران کی کال پر جاری ہڑتال کے باعث مری کے چھوٹے بڑے بازار مکمل یا جزوی طور پر بند رہے۔ تاجروں نے آج دوپہر دو بجے جی پی او چوک میں دھرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم بعد ازاں احتجاج مرحبا چوک منتقل کر دیا گیا۔ تاجروں کی قیادت بعد میں دوبارہ جی پی او چوک آنے اور آئندہ لائحہ عمل کے اعلان کی تیاری کرتی رہی۔

ہڑتال اور لاک ڈاؤن نما صورتحال کے باعث سیاحوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ مال روڈ، بازاروں اور فوڈ پوائنٹس کی بندش کے باعث کھانے پینے کی اشیا کی قلت پیدا ہو گئی جبکہ ٹریفک کی بندش اور سخت چیکنگ کی وجہ سے آمدورفت بھی متاثر رہی۔ مختلف شہروں سے آنے والے سیاحوں نے شکایت کی کہ وہ تفریح کی غرض سے مری پہنچے لیکن بند بازاروں، سیکیورٹی رکاوٹوں اور غیر یقینی صورتحال کے باعث ان کی سیاحت متاثر ہو رہی ہے۔

ادھر ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ رات آٹھ بجے کے بعد نافذ پابندیاں بدستور برقرار رہیں گی جبکہ آپریشن بھی شیڈول کے مطابق جاری رکھا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق تاجروں کی حالیہ احتجاجی سرگرمیوں کے تناظر میں پولیس کو ایک درخواست بھی موصول ہوئی ہے، جس میں بعض تاجران رہنماؤں پر حکومتی پالیسیوں کے خلاف عوام کو اکسانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد شہر میں مزید کشیدگی کا خدشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آتشزدگی کے واقعات سے بچاؤ: مریم نواز کی زیرصدارت اجلاس میں اہم فیصلے، سخت احکامات جاری

موجودہ صورتحال میں مری مکمل طور پر ایک حساس زون کا منظر پیش کر رہا ہے جہاں ایک طرف ترقیاتی منصوبے کے تحت عمارتوں کی مسماری جاری ہے تو دوسری جانب تاجر برادری سراپا احتجاج ہے، جبکہ سیاح غیرمعمولی مشکلات اور بے یقینی کی کیفیت سے دوچار دکھائی دیتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp