بنگلہ دیش انسٹیٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اسٹڈیز (بی آئی ڈی ایس) کی نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ملک میں صحت کا کمزور نظام عام شہریوں پر بھاری مالی بوجھ ڈال رہا ہے اور تقریباً 79 فیصد طبی اخراجات مریض اور ان کے خاندان اپنی جیب سے ادا کر رہے ہیں۔
دارالحکومت ڈھاکہ میں منعقدہ ایک سیمینار میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق غریب خاندان اپنی آمدنی کا 35 فیصد تک علاج معالجے پر خرچ کرنے پر مجبور ہیں، جس کے باعث بہت سے لوگ قرض لینے یا غربت کی لکیر سے نیچے جانے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیشی حکومت کا ایک لاکھ طلبا و طالبات کو مفت سہولیات فراہم کرنے کا اعلان
رپورٹ بعنوان ’بنگلہ دیش میں نامکمل طبی ضروریات اور ذاتی طبی اخراجات پر نظرثانی‘ میں بتایا گیا کہ کینسر، گردوں اور دل کے امراض جیسے مہنگے علاج ہزاروں خاندانوں کے لیے مالی تباہی کا سبب بن رہے ہیں۔
تحقیق کے مطابق ایک اوسط بنگلہ دیشی خاندان ہر ماہ تقریباً 3 ہزار 454 ٹکہ علاج پر خرچ کرتا ہے، جو مجموعی گھریلو اخراجات کا تقریباً 11 فیصد بنتا ہے، جبکہ امیر خاندان اپنی آمدنی کا صرف 5 فیصد صحت پر خرچ کرتے ہیں۔
یہ تحقیق 2022 کے گھریلو آمدنی و اخراجات سروے اور ملک بھر کے 62 ہزار 387 افراد سے حاصل کردہ معلومات کی بنیاد پر تیار کی گئی۔
بی آئی ڈی ایس کے محققین کے مطابق 65 فیصد افراد کو سروے کے دوران طبی سہولیات کی کمی کا سامنا رہا۔ کئی افراد نے بتایا کہ مہنگے علاج، بیماری کی تشخیص کے خوف، آگاہی کی کمی یا اسپتال جانے کے لیے خاندانی تعاون نہ ہونے کے باعث وہ علاج نہیں کرا سکے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ دیہی علاقوں میں صورتحال زیادہ خراب ہے جہاں 68 فیصد افراد کو طبی سہولیات تک رسائی نہیں مل سکی، جبکہ شہری علاقوں میں یہ شرح 59 فیصد رہی۔ راجشاہی ڈویژن میں تقریباً 73 فیصد افراد کو ضروری علاج نہ مل سکا، جبکہ سلہٹ میں یہ شرح 70 فیصد سے زیادہ رہی۔
ضلع نڑائل سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ قرار پایا جہاں 81 فیصد شہری علاج سے محروم رہے، جبکہ فینی میں یہ شرح سب سے کم 18 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں:چین اور بنگلہ دیش کا باہمی تعلقات مزید بہتر کرنے اور تزویراتی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق
رپورٹ کے مطابق کینسر کے ایک مریض کے علاج پر اوسطاً 2 لاکھ 24 ہزار ٹکہ خرچ آتا ہے، جبکہ دل کے امراض کے علاج پر تقریباً ایک لاکھ ٹکا لاگت آتی ہے۔ گردوں کے علاج پر اوسط خرچ 63 ہزار ٹکہ اور حادثات و زخموں کے علاج پر 44 ہزار ٹکہ سے زیادہ خرچ آتا ہے۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا کہ بنگلہ دیش کا صحت کا نظام اب بھی زیادہ تر ذاتی اخراجات پر انحصار کرتا ہے، جس سے کمزور طبقات شدید معاشی دباؤ کا شکار ہو رہے ہیں۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے معروف ماہر معیشت پروفیسر ڈاکٹر وحید الدین محمود نے کہا کہ صحت اور تعلیم قومی ترقی کی بنیاد ہیں، تاہم صرف جدید عمارتیں بنانے کے بجائے خدمات کے معیار کو بہتر بنانا زیادہ ضروری ہے۔
وزیراعظم کے مشیر برائے معیشت و منصوبہ بندی راشد العالم محمود تیتومیر نے صحت کے شعبے میں کمزوریوں کا اعتراف کرتے ہوئے بہتر نگرانی، شفافیت اور مؤثر حکمرانی پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کو سستا علاج فراہم کرنے کے لیے قومی ہیلتھ کارڈ نظام متعارف کرانے پر غور کر رہی ہے۔
بی آئی ڈی ایس نے اپنی سفارشات میں فوری اصلاحات، یونیورسل ہیلتھ کوریج اور انشورنس پر مبنی نظام متعارف کرانے پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں بنگلہ دیش میں صحت کی سہولیات کا بحران مزید بڑھ سکتا ہے۔














