بنگلہ دیشی حکومت نے ملک بھر میں تقریباً دو سال سے جاری فوجی تعیناتی کو ختم کرنے اور فوج کو فیلڈ لیول کی قانون نافذ کرنے والی ذمہ داریوں سے بتدریج واپس بلانے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ اہم اعلان وزیر داخلہ صلاح الدین احمد نے جمعرات کے روز سیکرٹریٹ میں میڈیا بریفنگ کے دوران کیا۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں عوام طبی اخراجات کا 79 فیصد خود ادا کرنے پر مجبور، صحت کا بحران سنگین
وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ فوج غیر معینہ مدت تک امن و امان برقرار رکھنے کے فرائض انجام نہیں دے سکتی۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی کی سطح پر یہ فیصلہ کر لیا گیا ہے کہ مسلح افواج کو اب فیلڈ ڈیوٹیوں پر مزید برقرار نہیں رکھا جائے گا اور انہیں مرحلہ وار بیرکوں میں واپس بھیجنے کا منصوبہ شروع کر دیا گیا ہے۔
یہ فیصلہ منگل کو منعقدہ گورنمنٹ کور کمیٹی برائے امن و امان کے اجلاس میں کیا گیا تھا۔
صلاح الدین احمد کا کہنا تھا کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال اب کافی بہتر ہو چکی ہے اور پولیس فورس ایک بار پھر منظم اور نظم و ضبط کی حالت میں واپس آ گئی ہے۔ حکومت کو اب پولیس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر مکمل اعتماد ہے کہ وہ اندرونی سلامتی کے معاملات خود سنبھال سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوام کا اعتماد بھی پولیس پر بحال ہو رہا ہے، جو کہ ایک خوش آئند بات ہے۔

وزیر داخلہ نے بتایا کہ فوج کی واپسی کے باوجود جرائم پیشہ عناصر، بھتہ خوروں، عسکریت پسندوں اور منشیات فروشوں کے خلاف آپریشنز بلا تعطل جاری رہیں گے۔ انہوں نے ان الزامات کو مسترد کر دیا کہ بااثر مجرموں کو رعایت دی جا رہی ہے، اور واضح کیا کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں ہے اور روزانہ کی بنیاد پر فہرست میں شامل مجرموں کی گرفتاریاں عمل میں لائی جا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیشی حکومت کا ایک لاکھ طلبا و طالبات کو مفت سہولیات فراہم کرنے کا اعلان
بریفنگ کے دوران وزیر داخلہ نے سلہٹ ڈویژن میں پتھروں کی کان کنی اور ماحولیاتی مسائل پر بھی گفتگو کی۔ انہوں نے بتایا کہ ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو رواں ماہ کے آخر تک اپنی رپورٹ پیش کرے گی، جس کے بعد پائیدار مائننگ سے متعلق قانونی فیصلے کیے جائیں گے۔














