جنوبی افریقہ کی اے آئی پالیسی کینسل، مصنوعی ذہانت کا کونسا کارنامہ اس کی وجہ بنا؟

جمعہ 8 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جنوبی افریقہ نے اپنی قومی مصنوعی ذہانت یا اے آئی پالیسی اس وقت واپس لے لی جب یہ انکشاف ہوا کہ اس دستاویز کے کچھ حصے مبینہ طور پر خود اے آئی کے ذریعے تیار کیے گئے تھے اور اس میں دیے گئے کئی تعلیمی حوالہ جات جعلی یا غیر موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیں: اے آئی کا زیادہ استعمال دماغ کو سست بنا رہا ہے، کن صلاحیتوں کو شدید خطرہ ہے؟

جنوبی افریقہ کے وزیرِ مواصلات سولی مالاٹسی نے کہا کہ کم از کم 67 میں سے 6 حوالہ جات ایسے جرنلز اور تحقیقی مقالات پر مشتمل تھے جو حقیقت میں موجود ہی نہیں تھے۔

انہوں نے کہا کہ سب سے ممکنہ وضاحت یہ ہے کہ اے آئی سے تیار کردہ حوالہ جات بغیر تصدیق کے شامل کر لیے گئے یہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ غلطی محض ایک تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ اس نے پالیسی کی ساکھ اور اعتبار کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

قومی مصنوعی ذہانت پالیسی کا مقصد جنوبی افریقہ کو اے آئی جدت میں ایک رہنما ملک کے طور پر سامنے لانا تھا اور ساتھ ہی اخلاقی، سماجی اور معاشی چیلنجز سے نمٹنا تھا تاہم میڈیا کی تحقیقات کے بعد انکشاف ہوا کہ دستاویز کا ایک بڑا حصہ غیر تصدیق شدہ اے آئی مواد پر مشتمل تھا۔

مزید پڑھیے: ایلون مسک کا اوپن اے آئی پر مقدمہ: چیٹ جی پی ٹی کی لانچنگ بنا مشاورت ہوئی، سابق رکن بورڈ

وزیر مواصلات نے کہا کہ یہ ناقابل قبول کوتاہی اس بات کی واضح مثال ہے کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال میں انسانی نگرانی انتہائی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے لیے ایک سبق ہے جسے ہم عاجزی کے ساتھ تسلیم کرتے ہیں۔

جنوبی افریقہ کے میڈیا ادارے نیوز24 نے سب سے پہلے اس بات کی نشاندہی کی تھی کہ مسودے میں ایسے تحقیقی حوالہ جات شامل تھے جو درحقیقت موجود نہیں تھے جن میں ساوتھ افریقن جرنل آف فلاسفی، اے آئی اینڈ سوسائٹی اور جرنل آف ایتھکس اینڈ سوشل فلاسفی جیسے جرنلز کا ذکر کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: ماضی کے لمحات تازہ کریں: اے آئی کے ذریعے اپنی کم عمری والی تصاویر بنائیں

سولی مالاٹسی نے کہا کہ اس معاملے میں ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور پالیسی دستاویز کو دوبارہ نظرثانی کے بعد عوامی مشاورت کے لیے پیش کیا جائے گا۔

اے آئی ہیلوسینیشن کیا ہے؟

اے آئی ہیلوسینیشن اس صورتحال کو کہتے ہیں جب مصنوعی ذہانت کوئی جواب بہت اعتماد کے ساتھ دیتی ہے لیکن وہ حقیقت میں غلط یا مکمل طور پر بناوٹی ہوتا ہے۔ یہ اس لیے ہوتا ہے کیونکہ اے آئی براہ راست حقیقت نہیں دیکھتی بلکہ وہ اپنے تربیتی ڈیٹا میں موجود پیٹرنز کی بنیاد پر اندازہ لگا کر جواب تیار کرتی ہے۔ اگر اسے کسی سوال کا درست ڈیٹا واضح طور پر نہ ملے تو وہ اندازے سے ایسا جواب بنا سکتی ہے جو سننے میں درست لگے مگر اصل میں موجود نہ ہو جیسے غیر موجود کتابوں یا جرنل آرٹیکلز کے حوالے۔

اسی لیے جب حکومت یا کوئی ادارہ اے آئی کی مدد سے دستاویز تیار کرتا ہے تو اسے لازمی طور پر انسانی جانچ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ورنہ چھوٹی سی غلطی بھی سرکاری پالیسی یا رپورٹ کی ساکھ کو متاثر کر سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: اے آئی کے عوامی سروے: کیا یہ زیادہ درست رائے فراہم کرسکتے ہیں؟

جنوبی افریقہ کے معاملے میں بھی یہی ہوا کہ جعلی حوالہ جات پالیسی میں شامل ہو گئے جس پر حکومت نے دستاویز واپس لے کر اسے دوبارہ درست کرنے کا فیصلہ کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان دشمن گٹھ جوڑ بے نقاب، فتنہ الخوارج، بھارت اور کالعدم ایکشن کمیٹی کے روابط کے شواہد سامنے آگئے

مئی 2026 میں ترسیلاتِ زر 4.25 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں

کنگ چارلس سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے فلاحی سرگرمیوں پر میرا شکریہ ادا کیا، ماہرہ خان

پاک افغان سرحدی علاقوں میں کارروائیاں، بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 26 دہشتگرد ہلاک

لاہور چرس برآمدگی کیس: مجرم کی 11 سالہ سزا مکمل، عمر قید کے مساوی قرار

ویڈیو

بجٹ 27-2026، کم از کم تنخواہ کتنی ہونی چاہیے؟ اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

ایران امریکا ثالثی کے بعد بیرونی قوتیں پاکستان میں عدم استحکام کی کوششیں کررہی ہیں: سفارتکار ضمیر اکرم

پاکستان کا اگلا وزیراعظم بلاول بھٹو ہوگا اور اپنی ماں اور نانا کی طرح ملک کی خدمت کرے گا، سینیٹر پیپلزپارٹی شہادت اعوان

کالم / تجزیہ

’سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن ہے‘

چاچا کرکٹ صرف تماشائی نہیں تھا

میں انس عبیداللہ عابد کے جنازے میں کیوں نہیں گیا؟