اسلام آباد میں امریکا ایران مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کا امکان، 14 نکاتی معاہدے پر کام جاری

ہفتہ 9 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اگلے ہفتے دوبارہ اسلام آباد میں شروع ہونے کا امکان ہے، جبکہ دونوں ممالک ثالثوں کی مدد سے ایک 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت تیار کرنے پر کام کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا ایران مذاکرات میں پیشرفت کی خبروں پر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں گر گئیں

امریکی اخبار ’دی وال اسٹریٹ جرنل‘ کے مطابق امریکا اور ایران ایک صفحے پر مشتمل دستاویز پر غور کر رہے ہیں، جس میں ایک ماہ پر مشتمل مذاکرات کے لیے بنیادی ضوابط اور فریم ورک طے کیا جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق مجوزہ معاہدے میں ایران کے ایٹمی پروگرام، آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرنے اور افزودہ یورینیئم سے نمٹنے کے طریقہ کار سمیت کئی اہم نکات شامل ہیں۔

اخبار کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں امریکا، ایران اور علاقائی ثالثوں کے درمیان سفارتی رابطوں میں تیزی آئی ہے۔ پاکستان، قطر اور بعض خلیجی ممالک بھی پسِ پردہ رابطوں میں کردار ادا کر رہے ہیں تاکہ دونوں ممالک کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔

دی وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق اگر مذاکرات میں پیشرفت ہوتی ہے تو ابتدائی ایک ماہ کی مدت کو فریقین کی باہمی رضامندی سے بڑھایا بھی جا سکتا ہے۔ تاہم بعض اہم معاملات تاحال حل طلب ہیں، جن میں ایران پر عائد پابندیوں میں ممکنہ نرمی سب سے حساس مسئلہ قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا ایران جنگ میں پاکستان کی ثالثی کے باعث لاکھوں زندگیاں محفوظ رہیں، وزیراعظم

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا ایک طرف ایران پر دباؤ برقرار رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب سفارتی حل کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ ایرانی حکام بھی مجوزہ نکات کا جائزہ لے رہے ہیں اور مختلف تحفظات پر بات چیت جاری ہے۔

واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا پہلا مرحلہ 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہوا تھا، جہاں دونوں ممالک کے وفود کے درمیان تقریباً 21 گھنٹے تک بات چیت جاری رہی، تاہم مذاکرات کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp