امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں امریکا کی تازہ تجویز پر ایران کے جواب کا ’آج رات‘ تک انتظار ہے، جبکہ دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا نیا دور اگلے ہفتے دوبارہ اسلام آباد میں شروع ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا ایران مذاکرات میں پیشرفت کی خبروں پر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں گر گئیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ امریکا کی جانب سے پیش کی گئی تازہ تجویز پر ایران کے جواب کے منتظر ہیں اور امکان ہے کہ تہران کی جانب سے ردعمل ’آج رات‘ موصول ہو جائے گا۔
وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ’مجھے آج رات ایک خط موصول ہونے والا ہے، پھر دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے‘۔

ادھر اطلاعات ہیں کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اگلے ہفتے دوبارہ اسلام آباد میں شروع ہونے کا امکان ہے، جبکہ دونوں ممالک ثالثوں کی مدد سے 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت تیار کرنے پر کام کر رہے ہیں۔
امریکی اخبار ’دی وال اسٹریٹ جرنل‘ کے مطابق امریکا اور ایران ایک صفحے پر مشتمل دستاویز پر غور کر رہے ہیں جس میں ایک ماہ پر مشتمل مذاکرات کے لیے بنیادی ضوابط اور فریم ورک طے کیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق مجوزہ معاہدے میں ایران کے ایٹمی پروگرام، آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرنے اور افزودہ یورینیئم سے نمٹنے کے طریقہ کار سمیت کئی اہم نکات شامل ہیں۔
📌 US and Iran may resume talks next week in Islamabad: Report
➡️ 14-point memorandum covers Iran’s nuclear program, easing tensions in Hormuz, and possible transfer of enriched uranium abroad, the Wall Street Journal says https://t.co/w6YfPCvnlk pic.twitter.com/fGykJGj1SK
— Anadolu English (@anadoluagency) May 8, 2026
اخبار کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں امریکا، ایران اور علاقائی ثالثوں کے درمیان سفارتی رابطوں میں تیزی آئی ہے۔ پاکستان، قطر اور بعض خلیجی ممالک بھی پسِ پردہ رابطوں میں کردار ادا کر رہے ہیں تاکہ دونوں ممالک کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔
’دی وال اسٹریٹ جرنل‘ کے مطابق اگر مذاکرات میں پیشرفت ہوتی ہے تو ابتدائی ایک ماہ کی مدت کو فریقین کی باہمی رضامندی سے بڑھایا بھی جا سکتا ہے۔ تاہم بعض اہم معاملات تاحال حل طلب ہیں جن میں ایران پر عائد پابندیوں میں ممکنہ نرمی سب سے حساس مسئلہ قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا ایران جنگ میں پاکستان کی ثالثی کے باعث لاکھوں زندگیاں محفوظ رہیں، وزیراعظم
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا ایک طرف ایران پر دباؤ برقرار رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب سفارتی حل کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ ایرانی حکام بھی مجوزہ نکات کا جائزہ لے رہے ہیں اور مختلف تحفظات پر بات چیت جاری ہے۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا پہلا مرحلہ 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہوا تھا جہاں دونوں ممالک کے وفود کے درمیان تقریباً 21 گھنٹے تک بات چیت جاری رہی، تاہم مذاکرات کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے تھے۔













