وفاقی آئینی عدالت کا فیصلہ: 9 سالہ بچے کی حوالگی ماں کے پاس برقرار، دادی اور پھوپھو کی درخواست مسترد

پیر 11 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی آئینی عدالت نے 9 سالہ بچے کی حوالگی سے متعلق مقدمے میں دادی اور پھوپھو کی درخواست مسترد کرتے ہوئے بچے کی حوالگی ماں کے حق میں برقرار رکھی ہے۔

مزید پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت میں کراچی تجاوزات کیس کی سماعت مقرر

جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کی۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ صرف ماں کی دوسری شادی کی بنیاد پر بچے کی حوالگی تبدیل نہیں کی جا سکتی۔

عدالت نے سوال اٹھایا کہ درخواست گزاروں نے کبھی یہ بھی دیکھا ہے کہ بچے کی تعلیم اور پرورش کیسی چل رہی ہے یا نہیں۔

درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ بچے کی ماں نے دوسری شادی کر لی ہے، تاہم عدالت نے کہا کہ یہ معاملہ صرف بچے کی حوالگی سے متعلق ہے، جائیداد کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔

جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ لگتا ہے اس معاملے میں بچے کے مفاد کے بجائے جائیداد کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔

عدالت نے مزید کہا کہ ماں کے خلاف مقدمہ درج ہونے جیسے معاملات بھی زیر بحث آئے، لیکن ان بنیادوں پر حوالگی تبدیل نہیں کی جا سکتی۔

مزید پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت نے مقررہ مدت کے اندر فیصلہ نہ سنانا قانون کی خلاف ورزی قرار دے دیا

عدالت کے مطابق پہلے ہی گارڈین عدالت نے بچے کی حوالگی ماں کے حق میں برقرار رکھی ہے، جسے عدالت نے درست قرار دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ والد کی وفات کے بعد بچے کی حوالگی قانون کے مطابق ماں کے پاس ہی رہتی ہے۔

بالآخر وفاقی آئینی عدالت نے درخواست خارج کر دی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp