شاہد آفریدی کا اپنی بیٹیوں کے موبائل استعمال سے متعلق حیرت انگیز انکشاف

پیر 11 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے کہا ہے کہ دینی اور دنیاوی تعلیم دونوں نہایت ضروری ہیں، تاہم بچوں کی اصل اور مؤثر تربیت کی سب سے بڑی ذمہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے۔ ان کے مطابق اگر تربیت درست نہ ہو تو دین اور دنیا کی تعلیم کا مطلوبہ فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا۔

ایک نجی اسکول کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شاہد آفریدی نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ والدین عموماً بہت کم عمری میں، یعنی ڈھائی سے تین سال کے بچوں کو اسکولوں کے حوالے کر دیتے ہیں جو ان کے مطابق ایک بڑی غلطی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی اس غلطی کا اعتراف کرتے ہیں تاہم اب ان کا ماننا ہے کہ بچوں کی 5 سال کی عمر تک بنیادی تربیت گھر میں ہونا انتہائی ضروری ہے اور اس حوالے سے ماں باپ سے بہتر کوئی استاد نہیں ہو سکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ انسان سے غلطیاں ہوتی ہیں، لیکن اگر بچے کی تربیت اچھی ہو تو وہ ہمیشہ صحیح راستے کی طرف لوٹ آتا ہے۔ اس لیے والدین کو تعلیم سے زیادہ تربیت پر توجہ دینی چاہیے۔

شاہد آفریدی نے آج کے دور میں والدین کی جانب سے بچوں کو خاموش کرانے کے لیے موبائل فون دینے کے رجحان پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنی اولاد کو اس عادت سے دور رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنی بیٹیوں کو نکاح کے بعد موبائل فون دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

انڈر 18 ہاکی ایشیا کپ: پاکستان نے ملائیشیا کو شکست دے کر کانسی کا تمغہ جیت لیا

کالعدم ایکشن کمیٹی کشمیر کاز کو نقصان پہنچانے کی راہ پر گامزن، حقیقت کھل کر سامنے آگئی

ایکشن کمیٹی سے اب بھی مذاکرات کے لیے تیار، قانون توڑا گیا تو کارروائی ہوگی، وزیراعظم آزاد کشمیر

غزہ جنگ بندی: حماس کے قاہرہ میں اہم مذاکرات شروع، دوسرے مرحلے پر مشاورت جاری

ایکشن کمیٹی کے بیشتر مطالبات پورے کردیے، سڑکوں پر آنا مسائل کا حل نہیں، طارق فضل چوہدری

ویڈیو

گلگت بلتستان میں کس کی حکومت بن رہی ہے؟ آزاد کشمیر میں انتشار پھیلانے والوں کو سخت پیغام

گلگت بلتستان میں حکومت کے بدلے 28ویں آئینی ترمیم؟ الیکشن کون جیت رہا ہے؟

مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا کے امن کے لیے ناگزیر قرار، اقوام متحدہ میں پاکستان کا دوٹوک مؤقف

کالم / تجزیہ

ریاست کے ساتھ کھڑے ہونا جرم نہیں

ٹرمپ نیتن یاہو تلخی اور مشرق وسطیٰ کا بدلتا نقشہ

28 ویں ترمیم تو آنی ہی آنی ہے