کوئٹہ کے علاقے لک پاس میں واقع کسٹمز گودام میں لگنے والی خوفناک آگ کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں کی تعداد 50 تک پہنچ گئی ہے۔
دوسری جانب اسپتال ذرائع کے مطابق متعدد افراد کو تشویشناک حالت میں مختلف اسپتالوں کے برنس یونٹ میں منتقل کیا گیا ہے۔
شدید زخمیوں کو سول اسپتال اور بولان میڈیکل کمپلیکس کے برنس یونٹ منتقل کیا گیا ہے، جبکہ 40 زخمیوں کو سول اسپتال لایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ میں مبینہ خاتون خودکش بمبار کی گرفتاری، دہشتگرد نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات
سول اسپتال کے برنس یونٹ میں 29 زخمی زیر علاج ہیں اور زیادہ تر زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر بتائی جارہی ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق لک پاس پر کسٹمز کے گودام میں لگنے والی آگ پر قابو پالیا گیا ہے۔
آگ بجھانے کے لیے رات بھر پی ڈی ایم اے کی ٹیمیں، ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو اہلکار امدادی کارروائیوں میں مصروف رہے۔
مزید پڑھیں: کوئٹہ: انسداد دہشتگردی عدالت نے اختر مینگل کی ضمانت منظور کرلی
حکام کے مطابق آگ گزشتہ روز کسٹمز گودام میں بھڑکی تھی، جس کے دوران وہاں موجود ایل پی جی باؤزر بھی دھماکے سے پھٹ گیا۔
دھماکے میں ڈی جی پی ڈی ایم اے، ڈپٹی کمشنر مستونگ، ایف سی کے ونگ کمانڈر اور اسسٹنٹ کمشنر سریاب بھی معمولی زخمی ہوئے۔
پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ریسکیو آپریشن میں 30 ریسکیورز، 13 ایمبولینسز اور 4 فائر ٹرکس نے حصہ لیا۔
مزید پڑھیں: کوئٹہ: بی ایم سی اسپتال سے قتل کا ملزم فرار، 5 پولیس اہلکار معطل
گودام میں ایل پی جی، ایندھن اور مختلف کیمیکلز کی موجودگی کے باعث صورتحال انتہائی خطرناک رہی۔
ذرائع محکمہ کسٹمز کے مطابق گودام میں اربوں روپے مالیت کی ضبط شدہ غیر ملکی اشیا اور نان کسٹم پیڈ گاڑیاں موجود تھیں، جنہیں آگ سے بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق آگ پر قابو پانے کے بعد کسٹمز گودام کے سامنے بند کوئٹہ کراچی ہائی وے کو ٹریفک کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔
مذکورہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔














