غزہ میں اسپتالوں پر اسرائیلی حملوں سے متعلق دستاویزی فلم ’غزہ: ڈاکٹرز انڈر اٹیک‘ کے فلم سازوں نے بافٹا ٹی وی ایوارڈ جیتنے کے بعد برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ بی بی سی نے مبینہ طور پر ’غیر جانبداری‘ کے خدشات کے باعث اس فلم کی نشریات سے انکار کر دیا تھا۔
ہدایت کار کریم شاہ کی اس تحقیقاتی دستاویزی فلم نے بافٹا ٹی وی ایوارڈز میں ’کرنٹ افیئرز‘ کیٹیگری میں ایوارڈ اپنے نام کیا جبکہ اسے ’ڈائریکٹر: فیکچول‘ کیٹیگری میں بھی نامزد کیا گیا تھا۔ بعد ازاں فلم کو برطانوی نشریاتی ادارے چینل 4 نے نشر کیا۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ پر خاموشی قبول نہیں، اروندھتی رائے کا برلن فلم فیسٹیول میں شرکت سے انکار
ایوارڈ وصول کرتے ہوئے فلم کے ایگزیکٹو پروڈیوسر بین ڈی پیئر نے بی بی سی کے فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’بی بی سی سے صرف ایک سوال ہے، جب آپ نے ہماری فلم نشر نہیں کی تو کیا آج رات بافٹا اسکریننگ سے بھی ہمیں خارج کر دیں گے؟‘۔
فلم کی صحافی اور پریزنٹر رمیتا نوائی نے بھی تقریب سے خطاب میں بی بی سی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فلم میں غزہ کے طبی نظام پر حملوں سے متعلق اہم شواہد پیش کیے گئے مگر نشریاتی ادارے نے اسے دکھانے سے گریز کیا۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ پر مبنی فلم ’دی وائس آف ہند رجب‘، ’یہ صرف کہانی نہیں تاریخ ہے‘
انہوں نے کہا کہ ’یہ ہماری تحقیقات کے نتائج ہیں جن کے لیے بی بی سی نے فنڈنگ کی مگر نشر کرنے سے انکار کر دیا۔ ہم خاموش نہیں ہوں گے اور نہ ہی سنسرشپ قبول کریں گے‘۔
برطانوی اخبار دی ٹیلیگراف کے مطابق بی بی سی نے بافٹا تقریب کی نشریات کے دوران رمیتا نوائی کی تقریر کا مکمل حصہ نشر نہیں کیا بلکہ ایک ایڈٹ شدہ ورژن دکھایا جس میں اسرائیلی اقدامات سے متعلق ان کے بعض بیانات حذف کر دیے گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ کے حق میں آواز اٹھائی تو کام ملنا بند ہوگیا لیکن میں خاموش نہیں رہوں گی، امریکی اداکارہ کا دو ٹوک موقف
بی بی سی کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب ادارہ ایک اور غزہ سے متعلق دستاویزی فلم پر تنقید کی زد میں تھا جس میں ایک فلسطینی بچے نے بطور راوی شرکت کی تھی تاہم یہ ظاہر نہیں کیا گیا تھا کہ اس کے والد حماس سے وابستہ عہدیدار تھے۔
ایوارڈ جیتنے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں بین ڈی پیئر نے غزہ میں موجود صحافیوں جابر بدوان اور اسامہ العشی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ فلم کی ٹیم روزانہ اس خوف کے ساتھ جاگتی تھی کہ کہیں دونوں صحافی اسرائیلی حملوں میں جاں بحق نہ ہو گئے ہوں۔














