یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ دنیا کے تقریباً 20 ممالک یوکرین کے ساتھ ڈرون معاہدوں میں دلچسپی رکھتے ہیں جبکہ 4 اہم معاہدوں پر پہلے ہی دستخط کیے جا چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: یوکرین کا روس میں سرحد سے 1700 کلومیٹر اندر ڈرون حملہ، 9 افراد زخمی
صدر زیلنسکی نے پیر کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ مختلف مراحل میں تقریباً 20 ممالک یوکرین کے ساتھ تعاون پر کام کر رہے ہیں جبکہ طے پانے والے 4 معاہدوں کے تحت ابتدائی کنٹریکٹس کی تیاری بھی شروع ہو چکی ہے۔
فروری کے آخر میں ایران جنگ کے آغاز کے بعد یوکرین نے ڈرون جنگی مہارت کو سفارتی تعلقات کے فروغ کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کیا ہے۔ زیلنسکی نے مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کے مختلف دوروں کے دوران کئی دفاعی اور تجارتی معاہدے کیے۔
اپریل میں یوکرین نے جرمنی، ناروے اور نیدرلینڈز کے ساتھ دفاعی اور ڈرون تعاون کے معاہدے کیے۔
مزید پڑھیے: روس یوکرین جنگ اختتام کی جانب بڑھ رہی ہے، صدر پیوٹن
اس کے علاوہ گزشتہ ماہ یوکرین نے آذربائیجان کے صدر الہام علییف کے ساتھ بھی دفاع اور توانائی کے شعبوں میں معاہدوں پر دستخط کیے۔
زیلنسکی نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ یوکرین دنیا کے ایک اور خطے کے ساتھ بھی ڈرون معاہدوں کے تحت سیکیورٹی تعاون شروع کرنے جا رہا ہے تاہم انہوں نے اس خطے کا نام ظاہر نہیں کیا۔
یوکرینی صدر کے مطابق ان معاہدوں کے نتیجے میں یوکرین کو ضروری مقدار میں ایندھن کی فراہمی بھی شروع ہو چکی ہے اگرچہ انہوں نے اس کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
مزید پڑھیں: روس اور یوکرین کی جانب سے ایک دوسرے کے توانائی انفراسٹرکچرز پر شدید حملے
تجزیہ کاروں کے مطابق زیلنسکی کی ’ڈرون ڈپلومیسی‘ نہ صرف یوکرین کی دفاعی صنعت کو مضبوط بنا رہی ہے بلکہ اس کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ توانائی کے معاہدے اور یوکرینی زرعی مصنوعات کے لیے نئی منڈیاں حاصل کرنے کی بھی کوشش کی جا رہی ہے۔














