سام سنگ نے اپنے فلیگ شپ اسمارٹ فون گلیکسی ایس 25 کے صارفین کے لیے ون یو آئی 8.5 کا اسٹیبل ورژن باقاعدہ طور پر متعارف کروا دیا ہے جس میں پچاس سے زائد نئی خصوصیات اور جدید ترین مصنوعی ذہانت کے فیچرز شامل کیے گئے ہیں۔
یہ اپ ڈیٹ اس سے قبل جنوبی کوریا میں جاری کی گئی تھی تاہم اب امریکی صارفین کے لیے بھی دستیاب ہے جس کا سائز تقریباً ساڑھے چار جی بی ہے اور اس کے ساتھ اپریل کا سیکیورٹی پیچ بھی فراہم کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سام سنگ میسجز ایپ بند کرنے کا فیصلہ، اپنے پیغامات محفوظ کرلیں
اس نئی اپ ڈیٹ کی سب سے اہم خصوصیت ایجنٹک اے آئی ٹیکنالوجی ہے جو فون کو صارف کی مداخلت کے بغیر خود مختار فیصلے کرنے اور حالات کے مطابق عمل کرنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔
اس اپ ڈیٹ کے ذریعے فوٹو ایڈیٹنگ کے عمل کو بھی انتہائی سہل بنا دیا گیا ہے جہاں اب صارفین صرف تحریری ہدایات کے ذریعے تصاویر میں تبدیلی کر سکیں گے جس میں کپڑوں کے رنگ بدلنے سے لے کر مناظر میں نئی اشیا کا اضافہ شامل ہے۔

اس کے علاوہ کریٹیو اسٹوڈیو کے نام سے ایک نیا فیچر متعارف کرایا گیا ہے جو صارفین کو ہوم اسکرین سے ہی اپنی پسند کے وال پیپرز، اسٹیکرز اور پروفائل امیجز بنانے کی سہولت دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سام سنگ نے پاکستان میں گلیکسی S26 سیریز متعارف کرادی، الٹرا ماڈل کی قیمت کیا ہوگی؟
کیمرہ فیچرز میں بھی خاطر خواہ بہتری لائی گئی ہے جہاں اب دستاویزات اسکین کرتے وقت تصویر میں آنے والی انگلیاں یا کاغذ کے موڑ خود بخود ختم ہو جائیں گے جبکہ ایک ہی وقت میں 2 کیمروں سے ریکارڈنگ اور لاگ ویڈیوز کے لیے ریئل ٹائم کلر پریویو کی سہولت بھی دی گئی ہے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک بڑی تبدیلی کے طور پر سام سنگ کے کوئیک شیئر فیچر کو اب ایپل کے ایئر ڈراپ کے ساتھ ہم آہنگ کر دیا گیا ہے جس کے بعد سام سنگ صارفین اپنی ویڈیوز اور فائلیں آئی فون، آئی پیڈ اور میک صارفین کے ساتھ باآسانی شیئر کر سکیں گے۔
سام سنگ کے ورچوئل اسسٹنٹ بکسبی کو بھی مزید ذہین بنایا گیا ہے جو اب گفتگو کی ہسٹری کو یاد رکھتے ہوئے ادھوری ہدایات پر بھی فوری ردعمل دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اجازت کے بغیر میری تصویر کیوں استعمال کی؟ اداکارہ کا سام سنگ کیخلاف 15 ملین ڈالر ہرجانے کا مقدمہ
کمپنی کا ارادہ ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ اپ ڈیٹ گلیکسی ایس 24، زی فولڈ 7 اور ٹیبلیٹس سمیت دیگر آلات کے لیے بھی جاری کر دی جائے گی تاکہ زیادہ سے زیادہ صارفین ان جدید سہولیات سے فائدہ اٹھا سکیں۔














