وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو آگاہ کیا ہے کہ پاکستان کی قطر سے ایل این جی سپلائی بحال ہوگئی ہے اور اس سلسلے میں گیس سے لدا پہلا بحری جہاز کل کراچی کے پورٹ قاسم پر پہنچ جائے گا، جس سے کراچی سمیت ملک کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی۔
سینیٹر عمر فاروق کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں وفاقی وزیر نے بریفنگ دیتے ہوئے واضح کیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ بجٹ میں عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ لیوی بڑھانے کے معاہدے کا نتیجہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا اسپاٹ ایل این جی بولیاں مسترد کرنے کا فیصلہ، قطر سے سستی سپلائی کے امکانات بڑھ گئے
انہوں نے مزید بتایا کہ ملک میں اسٹاک اور لیکویڈیٹی کو برقرار رکھنے کے لیے پٹرول اور ڈیزل پر لیوی میں 80 روپے تک اضافے پر اتفاق کیا گیا تھا جس کی وجہ سے قیمتیں بڑھانا پڑیں۔
اجلاس کے دوران وزارتِ پٹرولیم کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ علاقائی صورتحال کے پیشِ نظر ملک میں خام تیل، ڈیزل اور پٹرول کے ذخائر میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
یہ بھجی پڑھیں: پاکستان کو سستی ایل این جی فراہم کرنے کے لیے عالمی توانائی کمپنیوں کی دوڑ لگ گئی
حکام کے مطابق اس وقت ملک میں پٹرول کا اسٹاک 6 لاکھ 62 ہزار ٹن جبکہ ڈیزل کا ذخیرہ تقریباً 6 لاکھ ٹن کے قریب موجود ہے۔ کمیٹی اراکین کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے حکام نے یہ موقف بھی اپنایا کہ پاکستان میں ڈیزل کی قیمتوں میں ہونے والا 48 فیصد اضافہ عالمی سطح پر دیگر ممالک کے مقابلے میں کم ہے، کیونکہ متحدہ عرب امارات میں قیمتیں 72 فیصد اور نیوزی لینڈ میں 88 فیصد تک بڑھی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی سینیٹر عمر فاروق نے اس موقع پر کہا کہ پٹرولیم مصنوعات سے متعلق تمام مسائل کو عوام کے سامنے لایا جائے گا اور مستقبل میں اس حوالے سے ہونے والے تمام فیصلوں پر کمیٹی کو اعتماد میں لیا جائے گا۔














