امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر حملے کی کوشش کے ملزم کا تمام الزامات سے انکار

پیر 11 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر حملے کی کوشش کے الزام میں گرفتار شخص نے عدالت میں اپنے خلاف عائد تمام الزامات سے انکار کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کی تقریب میں فائرنگ سے قبل پولیس کے تربیت یافتہ کتے نے حملہ آور کی نشاندہی کی تھی، رپورٹ

کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے 31 سالہ کول ایلن پیر کے روز واشنگٹن کی وفاقی عدالت میں پیش ہوا جہاں اس کے وکیل تیزیرا آبے نے ان کی جانب سے بے گناہی کی درخواست جمع کرائی۔ ملزم پر صدر کے قتل کی کوشش، وفاقی اہلکار پر حملہ اور اسلحہ رکھنے سمیت متعدد الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

استغاثہ کے مطابق کول ایلن نے گزشتہ ماہ وائٹ ہاؤس صحافیوں کی سالانہ تقریب کے دوران مبینہ طور پر امریکی خفیہ سروس کے ایک اہلکار پر شاٹ گن سے فائرنگ کی اور سیکیورٹی چیک پوائنٹ پر دھاوا بول دیا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملہ صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے دیگر اراکین کو نشانہ بنانے کی کوشش تھی جسے ناکام بنا دیا گیا۔

تحقیقات کے مطابق ملزم ٹرین کے ذریعے واشنگٹن پہنچا تھا اور اس کے پاس شاٹ گن، پستول اور چاقو موجود تھے۔ اس نے واشنگٹن ہلٹن ہوٹل میں کمرہ بھی بک کیا ہوا تھا جہاں 25 اپریل کو یہ تقریب منعقد ہوئی تھی۔

عدالتی کارروائی کے دوران کول ایلن نے نارنجی رنگ کا جیل لباس پہن رکھا تھا اور اسے ہتھکڑیوں میں عدالت لایا گیا۔ یہ ان کی پہلی پیشی تھی جس کی سماعت وفاقی جج ٹریور میک فیڈن نے کی جو آئندہ بھی اس مقدمے کی کارروائی کی نگرانی کریں گے۔

مزید پڑھیے: صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں تقریب میں فائرنگ، حملہ آور گرفتار، فائرنگ کرنیوالا  بھیڑیا اور ذہنی بیمار ہے، صدر ٹرمپ

گزشتہ ہفتے ایک اور جج نے جیل میں ملزم کے ساتھ برتاؤ پر معذرت بھی کی تھی کیونکہ اسے خودکشی کے خدشے کے تحت الگ تھلگ رکھا گیا تھا۔

عدالتی کارروائی کے دوران اس مقدمے میں ایک نئے قانونی تنازع کی بھی جھلک سامنے آئی جہاں ملزم کے وکیل نے قائم مقام اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانش اور امریکی پراسیکیوٹر جینین پیرو کو کیس سے الگ کرنے کا عندیہ دیا۔ دفاعی وکیل کا مؤقف ہے کہ چونکہ دونوں حکام اس تقریب میں موجود تھے اور ممکنہ طور پر حملے کے اہداف میں شامل ہو سکتے تھے اس لیے ان کا مقدمے کی پیروی کرنا مناسب نہیں۔

ملزم کے وکیل یوجین اوہم نے کہا کہ کسی ایسے واقعے کے ممکنہ متاثرین کا خود مقدمہ چلانا غیر مناسب ہے۔ استغاثہ کو اس قانونی درخواست پر 22 مئی تک جواب جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ پر حملہ آور نوجوان کی حقیقت سامنے آگئی

دوسری جانب جینین پیرو نے ایک انٹرویو میں کہا کہ تقریب میں موجود ہونا ان کی قانونی ذمہ داریوں پر اثر انداز نہیں ہوتا اور وہ غیر جانبداری کے ساتھ مقدمہ چلا سکتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان دشمن گٹھ جوڑ بے نقاب، فتنہ الخوارج، بھارت اور کالعدم ایکشن کمیٹی کے روابط کے شواہد سامنے آگئے

مئی 2026 میں ترسیلاتِ زر 4.25 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں

کنگ چارلس سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے فلاحی سرگرمیوں پر میرا شکریہ ادا کیا، ماہرہ خان

پاک افغان سرحدی علاقوں میں کارروائیاں، بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 26 دہشتگرد ہلاک

لاہور چرس برآمدگی کیس: مجرم کی 11 سالہ سزا مکمل، عمر قید کے مساوی قرار

ویڈیو

بجٹ 27-2026، کم از کم تنخواہ کتنی ہونی چاہیے؟ اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

ایران امریکا ثالثی کے بعد بیرونی قوتیں پاکستان میں عدم استحکام کی کوششیں کررہی ہیں: سفارتکار ضمیر اکرم

پاکستان کا اگلا وزیراعظم بلاول بھٹو ہوگا اور اپنی ماں اور نانا کی طرح ملک کی خدمت کرے گا، سینیٹر پیپلزپارٹی شہادت اعوان

کالم / تجزیہ

’سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن ہے‘

چاچا کرکٹ صرف تماشائی نہیں تھا

میں انس عبیداللہ عابد کے جنازے میں کیوں نہیں گیا؟