یورپی یونین کا اسرائیلی آبادکاروں اور حماس رہنماؤں پر پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ

منگل 12 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

یورپی یونین نے اسرائیلی آبادکاروں اور حماس کی اعلیٰ قیادت پر پابندیاں عائد کرنے پر اتفاق کرلیا ہے، یہ اتفاق رائے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں ہوا۔

مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف تشدد میں ملوث اسرائیلی آبادکاروں پر پابندیوں کا فیصلہ طویل عرصے سے التوا کا شکار تھا، جسے ہنگری کے سابق وزیراعظم وکٹر اوربان کی حکومت مسلسل روکے ہوئے تھی۔

یہ بھی پڑھیں: فرانس نے اسرائیلی آبادکاروں پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کرلیا، سبب کیا نکلا؟

تاہم ہفتے کے روز نئے وزیراعظم پیتر میگیائر کی تقرری کے بعد ہنگری نے ویٹو ختم کردیا۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کایا کیلس نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا کہ تعطل ختم کرکے عملی اقدام اٹھانے کا وقت آگیا تھا، انتہا پسندی اور تشدد کے نتائج ہوتے ہیں۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کایا کیلس ، تصویر بشکریہ الجزیرہ

پابندیوں کے اس پیکج میں 3 اسرائیلی آبادکاروں اور 4 آبادکار تنظیموں کو نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم ان کی شناخت تاحال ظاہر نہیں کی گئی۔

فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئیل بیروٹ نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین مغربی کنارے میں ’انتہا پسند اور پرتشدد آبادکاری‘ کی حمایت کرنے والی اہم اسرائیلی تنظیموں کے خلاف کارروائی کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ’سنگین اور ناقابل برداشت اقدامات‘ فوری طور پر بند ہونے چاہییں۔

اسرائیل نے یورپی یونین کے فیصلے کی سخت مذمت کی ہے۔ اسرائیلی وزیر خارجہ گڈن سار نے کہا کہ یورپی یونین نے ’سیاسی بنیادوں پر اور بغیر کسی قانونی جواز کے‘ اسرائیلی شہریوں اور اداروں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل یہودیوں کے اپنے وطن کے قلب میں آباد ہونے کے حق کا دفاع کرتا رہے گا۔

مزید پڑھیں: لاطینی امریکا کے رہنما اسرائیل مخالف مؤقف کیوں اپناتے ہیں؟

اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بین گوئیر نے یورپی یونین کو ’یہود دشمن‘ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ آبادکاری کا عمل نہیں رکے گا اور اسرائیل پورے علاقے میں تعمیرات اور آبادکاری جاری رکھے گا۔

دوسری جانب یورپی وزرائے خارجہ نے فلسطینی تنظیم حماس کی قیادت پر بھی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ہنگری کے وزیر اعظم پیٹر میگیار، تصویر بشکریہ الجزیرہ

فرانس کے وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ پابندیاں حماس کے ان رہنماؤں کے خلاف ہیں جنہیں 7 اکتوبر 2023 کے حملے کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔

اس حملے میں جنوبی اسرائیل میں تقریباً 1200 افراد ہلاک جبکہ 240 کو یرغمال بنایا گیا تھا۔

حماس کے سینیئر رہنما باسم نعیم نے یورپی یونین کے فیصلے کو سیاسی منافقت اور نسل پرستی قرار دیا۔

مزید پڑھیں: غزہ میں بھوک کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے، یورپی یونین کا دعویٰ

ان کا مؤقف تھا کہ یورپی یونین نسل کشی اور نسلی تطہیر کے مرتکب ریاست اور اپنا دفاع کرنے والے متاثرین کو ایک ہی نظر سے دیکھ رہی ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق مشرقی یروشلم کے علاوہ مقبوضہ مغربی کنارے میں 5 لاکھ سے زائد اسرائیلی آبادکار تقریباً 30 لاکھ فلسطینیوں کے درمیان رہتے ہیں۔

2025 میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع کم از کم 2017 کے بعد بلند ترین سطح تک پہنچ گئی، جب اقوام متحدہ نے اس حوالے سے باقاعدہ اعداد و شمار جمع کرنا شروع کیے تھے۔

مزید پڑھیں: غزہ میں بھوک کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے، یورپی یونین کا دعویٰ

غزہ میں اسرائیلی جنگ کے آغاز کے بعد مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج اور آبادکاروں کی کارروائیوں کے باعث تقریباً روزانہ تشدد کے واقعات پیش آرہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق اس دوران ایک ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہوچکے ہیں۔

اگرچہ یورپی یونین اسرائیلی آبادکاروں پر پابندیاں آگے بڑھا رہی ہے، تاہم اسرائیل کے خلاف مزید اقدامات، جیسے تجارتی تعلقات محدود کرنے، پر تاحال رکن ممالک میں اتفاق رائے موجود نہیں۔

مزید پڑھیں: امریکا، برطانیہ، جرمنی اور مسلم ممالک پر غزہ کی نسل کشی میں شراکت داری کا الزام

تاہم ہنگری کی مخالفت ختم ہونے کے بعد اس معاملے میں پیش رفت کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

برسلز میں ہونے والے اجلاس میں مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں میں تیار کی جانے والی مصنوعات پر پابندی کی تجاویز بھی زیر غور آئیں۔

اٹلی کے وزیر خارجہ انتونیو تیجانی نے کہا کہ یورپی کمیشن اس حوالے سے تجاویز پیش کرے گا، جس کے بعد رکن ممالک کی حمایت کا جائزہ لیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp