بشریٰ بی بی کی ملاقاتوں پر پابندی کا معاملہ: سیاسی گفتگو کا خدشہ ہو تو ملاقاتیوں سے بیانِ حلفی لیا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ

منگل 12 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی بیٹی کی درخواست پر جیل حکام سے وضاحت طلب کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ اگر سیاسی گفتگو کا خدشہ ہو تو ملاقاتیوں سے بیانِ حلفی لیا جائے، تاہم کسی بھی طرح بیٹی کی والدہ سے ملاقات کروائی جائے۔

منگل کے روز اسلام آباد ہائیکورٹ میں جسٹس ارباب محمد طاہر نے بشریٰ بی بی کی بیٹی مبشرہ مانیکا کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی، جس میں انہوں نے اپنی والدہ سے ملاقات، ذاتی معالج تک رسائی اور ضروری سامان کی فراہمی کی استدعا کررکھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان اور بشریٰ بی بی کے درمیان ملاقات کرا دی گئی، صحت اور زیر سماعت مقدمات پر تبادلہ خیال

دورانِ سماعت ایڈووکیٹ جنرل نوید ملک اور سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل ساجد بیگ عدالت میں پیش ہوئے جبکہ درخواست گزار کی نمائندگی سلمان اکرم راجہ ایڈووکیٹ نے کی۔

ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سپریٹنڈنٹ جیل نے بشریٰ بی بی کی فیملی اور معالج سے ملاقات کی درخواست مسترد کردی ہے، جس کی بنیادی وجہ جیل حکام کی وہ رپورٹ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ملاقاتوں کے بعد باہر جاکر سیاسی گفتگو کی جاتی ہے۔

رپورٹ میں بشریٰ بی بی کی بہن مریم ریاض وٹو کے ٹویٹس کو بھی بطور ثبوت پیش کیا گیا، جس پر سلمان اکرم راجہ نے سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ مریم ریاض وٹو بیرون ملک مقیم ہیں اور کبھی جیل نہیں گئیں، لہٰذا کسی تیسرے شخص کے سوشل میڈیا بیانات کی بنیاد پر بیٹی کو ملاقات سے محروم نہیں رکھا جاسکتا۔

یہ بھی پڑھیں: بشریٰ بی بی کی آنکھ کی سرجری مکمل، اہلِ خانہ سے ملاقات بھی کرا دی گئی

جسٹس ارباب محمد طاہر نے کیس کی حساسیت کے پیش نظر ریمارکس دیے کہ عدالت اس معاملے پر کوئی بھی فیصلہ جلد بازی میں نہیں کرنا چاہتی بلکہ جیل کے طریقہ کار اور قوانین کو مکمل طور پر سمجھ کر میرٹ پر ایک ہی بار جامع فیصلہ کیا جائے گا۔

معزز جج نے سپریٹنڈنٹ جیل سے قیدیوں کے نظام کے بارے میں استفسار کیا تو بتایا گیا کہ جیل میں اس وقت 7 ہزار سے زائد قیدی ہیں جن کا تمام ریکارڈ ‘پریزن منیجمنٹ انفارمیشن سسٹم’ کے تحت آن لائن مینیج کیا جاتا ہے۔

عدالت نے اس سسٹم کو سراہتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل کو مشورہ دیا کہ اگر سیاسی گفتگو کا خدشہ ہے تو ملاقاتیوں سے بیانِ حلفی لیا جاسکتا ہے، تاہم اس دوران جب بھی ممکن ہو بیٹی کی والدہ سے ملاقات کرائی جائے۔

یہ بھی پڑھیں: بشریٰ بی بی نے طبی بنیادوں پر سزا معطلی کے لیے نئی درخواست دائر کردی

ایڈووکیٹ جنرل نے کیس کی روزانہ سماعت کی مخالفت کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ افسران کی عدالت میں موجودگی سے جیل کا نظام متاثر ہوتا ہے، جس کے بعد عدالت نے فریقین سے جیل رولز کی روشنی میں تفصیلی دلائل طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 14 مئی تک ملتوی کردی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp