بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمان نے طلبہ پر زور دیا ہے کہ وہ ملک میں سیاسی استحکام کے قیام کے لیے فعال کردار ادا کریں کیونکہ پائیدار قومی ترقی کا انحصار سیاسی استحکام اور عوامی شمولیت پر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر داخلہ محسن نقوی کی ڈھاکا میں اہم ملاقاتیں، پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعاون بڑھانے پر اتفاق
منگل کے روز ڈھاکہ یونیورسٹی کی فیکلٹی آف سوشل سائنسز کے پروفیسر مظفر احمد چودھری آڈیٹوریم میں طلبہ سے ایک خصوصی نشست کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ نوجوان سوشل میڈیا اور مرکزی ذرائع ابلاغ کے ذریعے استحکام کے حق میں عوامی رائے ہموار کریں۔
تقریب میں مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے 156 طلبہ نے شرکت کی جبکہ 17 طلبہ نے براہِ راست وزیراعظم سے حکومتی پالیسیوں اور مستقبل کے منصوبوں سے متعلق سوالات کیے۔
ایک سوال کے جواب میں طارق رحمان نے کہا کہ اگرچہ عوام تیز رفتار ترقی چاہتے ہیں لیکن دیرپا ترقی صرف ایک مستحکم قومی ماحول میں ہی ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر استحکام یقینی نہ بنایا جائے تو کوئی بھی ترقی پائیدار نہیں رہ سکتی۔ چیزیں ایک بار بن سکتی ہیں مگر دوبارہ تباہ بھی ہو سکتی ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ جمہوری تسلسل اور سماجی ہم آہنگی کے تحفظ میں طلبہ کا کردار انتہائی اہم ہے۔
مزید پڑھیے: جنوبی ایشیا ریکارڈ گرمی کی لپیٹ میں، پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش سب سے زیادہ متاثر
انہوں نے مزید کہا کہ سیاست کا اصل مرکز پارلیمان اور مکالمہ ہونا چاہیے، نہ کہ صرف سڑکوں پر احتجاج۔ وزیراعظم نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ فکری اور سماجی سطح پر قوم کی تعمیر میں حصہ لیں۔
طارق رحمان نے طلبہ کو ملک کا مستقبل قرار دیتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو باحوصلہ، باشعور اور سماجی طور پر ذمہ دار رہنا چاہیے۔
تعلیم اور روزگار سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے طلبہ کو بنگلہ اور انگریزی کے ساتھ تیسری زبان سیکھنے کا مشورہ دیا تاکہ بیرونِ ملک ملازمتوں کے مزید مواقع حاصل کیے جا سکیں۔
ثقافت اور سماجی ترقی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کوئی بھی قوم ثقافتی سرگرمیوں اور تخلیقی صلاحیتوں کے بغیر ترقی نہیں کر سکتی۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت 4 سے 12 سال کی عمر کے بچوں کے لیے اسکول کی سطح پر تیسری زبان کی تعلیم متعارف کرا رہی ہے۔
وزیراعظم نے ’نوتن کُڑی اسپورٹس‘ اور موسیقی کی تعلیم کے فروغ جیسے نئے منصوبوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ان اصلاحات کے مکمل نتائج سامنے آنے میں تقریباً ایک دہائی لگ سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں غیر رجسٹرڈ ٹریول ایجنسیوں کے خلاف وارننگ، انسانی اسمگلنگ کے خدشات بڑھ گئے
گفتگو کے دوران طارق رحمان نے سابق عوامی لیگ حکومت کے دور میں مبینہ کرپشن خصوصاً روپ پور نیوکلیئر پاور پلانٹ منصوبےمیں ہونے والی بدعنوانی پر تنقید کی۔
انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ منصوبے میں ایک تکیے کی قیمت مبینہ طور پر 80 ہزار ٹکہ بتائی گئی۔ وزیراعظم نے از راہ مذاق یہ بھی کہا کہ کیا کوئی اتنے مہنگے تکیے پر آرام سے سو بھی سکتا ہے؟
انہوں نے الزام عائد کیا کہ سابق حکومت کے دور میں بڑے پیمانے پر رقم بیرون ملک منتقل کی گئی اور کئی بڑے منصوبوں میں بے ضابطگیاں ہوئیں۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان منشیات کے خلاف تعاون کا معاہدہ
تقریب میں ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبید الاسلام، سینیئر اساتذہ، حکومتی وزرا اور طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔














