آئی پی ایل 2026 کے دوران ویرات کوہلی سے منسوب انسٹاگرام تنازع ایک نئے موڑ میں داخل ہو گیا ہے جب جرمن انفلوئنسر لزلاز نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں مبینہ طور پر کچھ صحافیوں کی جانب سے کوہلی کے خلاف جھوٹے بیانات دینے اور ان پر الزامات عائد کرنے کے لیے مالی پیشکش کی گئی۔
انفلوئنسر نے کہا کہ انہوں نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا کیونکہ وہ کسی بھی صورت میں شہرت یا پیسے کے لیے کسی کھلاڑی کی ساکھ کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتیں۔
یہ بھی پڑھیں: ویرات کوہلی کا جرمن وی لاگر کی پوسٹ پر لائک، پھر ریموو، خاتون انفلوئنسر کا ردعمل سامنے آگیا
انہوں نے کہا کہ مجھے ویرات کوہلی کے خلاف غلط باتیں کہنے اور جھوٹے الزامات لگانے کے لیے پیسے کی پیشکش کی گئی لیکن میں نے انکار کر دیا۔ میں ایسا کبھی نہیں کر سکتی۔
لزلاز کے مطابق انہیں اس تنازع کا علم اس وقت ہوا جب ان کے فون پر مسلسل کالز اور پیغامات آنے لگے جبکہ ابتدا میں وہ اس معاملے سے مکمل طور پر لاعلم تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: ویرات کوہلی کا جرمن وی لاگر کی پوسٹ پر لائک، پھر ریموو، یہ خاتون کون ہیں؟
واضح رہے کہ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ویرات کوہلی کے انسٹاگرام اکاؤنٹ سے مبینہ طور پر لزلاز کی ایک پرانی پوسٹ کو ’لائیک‘ کیا گیا۔ چونکہ کوہلی اس انفلوئنسر کو فالو نہیں کرتے اس لیے اس واقعے نے سوشل میڈیا پر فوری ہلچل مچا دی اور قیاس آرائیوں، میمز اور تبصروں کا طوفان آ گیا۔ بعد ازاں صارفین نے اس واقعے کو سابقہ انسٹاگرام تنازع سے جوڑ دیا۔














