ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی اور ممکنہ مذاکرات کے تناظر میں پاکستان کا کردار مسلسل فعال ہے، دفتر خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ

جمعرات 14 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں امن، مکالمے اور سفارتکاری کے فروغ کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے، خصوصاً ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی اور ممکنہ مذاکرات کے تناظر میں پاکستان کا کردار مسلسل فعال ہے۔ انہوں نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ پاکستان تمام ریاستوں کی خودمختاری اور برابری کے اصولوں کا احترام کرتے ہوئے علاقائی امن کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

یہ بھی پڑھیں:خطے میں جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتکاری ناگزیر، ترجمان دفتر خارجہ کی بریفنگ


ترجمان دفتر خارجہ نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ خطے میں پائیدار امن صرف مکالمے اور سفارتکاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے گزشتہ ہفتے قطر اور آذربائیجان کے رہنماؤں سے ٹیلیفونک رابطے کیے، جن میں علاقائی صورتحال اور امن کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے آذربائیجان کے صدر کو ورلڈ اربن فورم کے لیے نیک خواہشات بھی پیش کیں۔

ترجمان کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے مشرق وسطیٰ کے خصوصی نمائندے سے ملاقات کی، جس میں خطے میں امن و استحکام اور پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا گیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے خطے میں ڈی اسکیلیشن اور مذاکرات کے فروغ کے لیے مختلف فریقین سے رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں، جن میں خاص طور پر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی کردار بھی شامل ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ 8 مئی کو نائب وزیراعظم نے سنگاپور کے وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک گفتگو کی، جس میں پاکستانی اور ایرانی بحری عملے کی واپسی اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:ترجمان دفتر خارجہ کا اسرائیلی سفیر کے بیان پر سخت ردعمل، الزامات مسترد

ترجمان نے کہا کہ 11 مئی کو سعودی وزیر خارجہ سے گفتگو میں بھی خطے کی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور زیر بحث آئے۔ سعودی عرب نے پاکستان کے تعمیری سفارتی کردار کو سراہا اور ایران و امریکا کے درمیان جاری سفارتی رابطوں کی حمایت کا اظہار کیا۔

اسی طرح 12 مئی کو آسٹریا کے وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک گفتگو میں بھی علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا، جس میں ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات اور پاکستان کی سہولت کاری کی کوششوں کو سراہا گیا۔

دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، بحری سلامتی اور سفارتی روابط کے فروغ کے لیے تمام شراکت داروں کے ساتھ قریبی رابطے میں رہے گا۔

ترجمان نے بتایا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے چین کے وزیر خارجہ وانگ یی سے ٹیلی فونک گفتگو کی، جس میں خطے کی تازہ صورتحال اور پاکستان کی جانب سے ایران اور امریکا کے درمیان رابطوں کو آسان بنانے کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

دونوں رہنماؤں نے سفارتکاری کے تسلسل اور خطے میں پائیدار امن کے لیے مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ اور علاقائی استحکام کے لیے جاری کوششوں کا بھی جائزہ لیا، جبکہ پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے پر اعلیٰ سطحی تبادلوں پر بھی بات ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان کا صبر لامحدود نہیں، اقوام متحدہ اور عالمی قوانین کے تحت افغانستان کو جواب دینے کا حق رکھتے ہیں، ترجمان دفتر خارجہ

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بعض میڈیا رپورٹس میں چین کی جانب سے پاکستان پر ثالثی کے کردار میں اضافے کے حوالے سے جو تاثر دیا گیا، وہ درست نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان گفتگو روایتی گرمجوشی اور دوستانہ ماحول میں ہوئی، اور چین نے پاکستان کے سفارتی کردار اور امن کوششوں کی مکمل حمایت کا اظہار کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ بعض بین الاقوامی میڈیا رپورٹس، خصوصاً ایرانی طیاروں کی موجودگی سے متعلق سی بی ایس کی رپورٹ، حقائق کے منافی اور گمراہ کن ہیں۔ پاکستان نے ان دعوؤں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بنکنگ یا عسکری نوعیت کی کسی سرگرمی سے متعلق الزامات بے بنیاد ہیں۔

ترجمان کے مطابق متعلقہ پروازیں سفارتی عملے، سیکیورٹی ٹیموں اور انتظامی اسٹاف کی نقل و حرکت کے لیے تھیں اور ان کا کسی بھی فوجی یا ہنگامی صورتحال سے کوئی تعلق نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مکالمے کو فروغ دینے کے لیے ایک شفاف اور تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا اور سفارتی رابطوں کے ذریعے امن کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔

یہ بھی پڑھیں:صدر زرداری کے دورہ یو اے ای کے دوران سرمایہ کاری اور تجارتی تعلقات بڑھانے پر زور دیا گیا، ترجمان دفتر خارجہ

ترجمان نے مزید بتایا کہ اسلام آباد میں ایک دہشتگرد حملے کے بعد افغان ناظم الامور کو وزارتِ خارجہ طلب کیا گیا، جہاں پاکستان نے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا۔ حملے میں پولیس اہلکاروں کی شہادت اور زخمی ہونے کے واقعے کی سخت مذمت کی گئی۔

ابتدائی تحقیقات اور تکنیکی شواہد کے مطابق حملہ آور افغانستان میں موجود دہشتگرد نیٹ ورکس سے تعلق رکھتے ہیں۔ پاکستان نے افغان حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ ذمہ دار عناصر کے خلاف فوری اور قابلِ تصدیق کارروائی کریں۔

دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اپنی قومی سلامتی کے تحفظ اور دہشتگرد نیٹ ورکس کے خاتمے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp