حکومت آزاد جموں و کشمیر نے ریاست میں تعلیمی نظام کو مستحکم بنانے اور اساتذہ کی کمی دور کرنے کے لیے بڑے ایجوکیشن پیکج کی مالیاتی منظوری دے دی جس کا حجم 2 ارب 98 کروڑ روپے ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مضبوط اور مستحکم پاکستان کشمیر کی آزادی کے لیے ناگزیر ہے، وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل راٹھور
محکمہ مالیات آزاد جموں و کشمیر کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق پیکج کے تحت تعلیمی اداروں کی اپ گریڈیشن اور نئی آسامیوں کی تخلیق کا عمل فوری طور پر شروع کیا جائے گا۔
منظور شدہ تعلیمی پیکج میں ریاست بھر کے مجموعی طور پر 1035 اسکول شامل کیے گئے ہیں جبکہ حکومت نے 3319 نئی اسامیوں کی تخلیق کے لیے فنڈز اور مالیاتی رضا مندی بھی فراہم کر دی ہے۔
ان آسامیوں کو مختلف زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے تاکہ تعلیمی اداروں کی ضروریات کو مؤثر انداز میں پورا کیا جا سکے۔
مزید پڑھیے: آزاد کشمیر انتخابات: نواز شریف انتخابی مہم کے لیے خود میدان میں اتریں گے
پیکج کی تفصیلات کے مطابق 368 اسامیاں مختلف سکولوں میں اسٹاف کی موجودہ کمی کو پورا کرنے کے لیے مختص کی گئی ہیں۔
منصوبے کا اہم ترین حصہ تعلیمی اداروں کی سطح بلند کرنا ہے جس کے لیے 2692 آسامیاں اپ گریڈیشن کے عمل کے تحت تخلیق کی گئی ہیں۔
علاوہ ازیں ریاست کے دور دراز علاقوں میں تعلیم کی رسائی بہتر بنانے کے لیے 259 نئی آسامیاں نئے اسکولوں کے قیام کے لیے منظور کی گئی ہیں۔
محکمہ مالیات کی جانب سے مالیاتی رضا مندی جاری ہونے کے بعد اب محکمہ تعلیم ان اسامیوں پر عمل درآمد اور بھرتیوں کا باقاعدہ عمل شروع کرے گا۔
مزید پڑھیں: پاکستان علاقائی سالمیت کے لیے ہر حد تک جا سکتا ہے، وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل راٹھور کا بھارت کو دوٹوک پیغام
اس اقدام کو آزاد کشمیر میں تعلیمی ڈھانچے کی بہتری اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔













